خطبات محمود (جلد 10) — Page 112
112 کے ایمان سچا نہیں۔تو پھر اس کے لئے تو ایک پیسہ خرچ کرنا بھی حرام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ يعلم غيب السموات والارض والله بصير بما تعملون اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب سے واقف ہے۔اور وہ سب کچھ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔اگر تم ظاہری عمل نہ کرو تو یہ تو بہت ہی برا ہے۔لیکن اگر تم عمل کر کے بھی خدا پر احسان رکھو۔یا اس کے رسول اور اس کے قائم مقاموں پر احسان جتلاؤ۔تو تمہارے کرنے کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔کیونکہ اس طرح کرنے والے اپنے ایمان اور عمل کو باطل کر لیتے ہیں تم سمجھتے ہو۔احکام مان کر تم خدا کا کام کرتے ہو۔حالانکہ یہ تمہارا اپنا کام ہے۔اور یہ بالکل درست بات ہے۔دیکھو اگر ہم چندہ جمع کر کے اشاعت اسلام میں صرف کرتے ہیں۔تو اس سے خدا کو کیا فائدہ۔ہم اپنی برادری اور ساتھیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔اسی طرح اگر چندہ جمع کر کے ہم غرباء کی مدد کرتے ہیں۔تو اس سے خدا تعالٰی کو کیا نفع۔یہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کرتے ہیں۔اور اپنی جماعت کو مضبوط بناتے ہیں۔اسی طرح اگر ہم چندہ اکٹھا کر کے تعلیم و تربیت میں خرچ کرتے ہیں۔تو اس سے خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ یہ ہم اپنی اولاد کی اصلاح اور ترقی کے سامان کرتے ہیں۔آخر سوچو تو سہی دین کے لئے جو چندہ جمع کیا جاتا ہے وہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔رسول کریم اے زمانہ میں اور اب بھی دین کی اشاعت ، غرباء کی مدد ، اپنی جماعت کی تعلیم و تربیت پر ہی صرف ہوتا ہے۔اور یہ سب باتیں ایسی ہیں۔جن کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے۔خدا تعالیٰ کو اس سے کیا کہ ہم اشاعت اسلام کریں یا نہ کریں۔خدا تعالٰی کا اس سے کیا حرج کہ ہم غرباء کی مدد کریں یا نہ کریں۔خدا تعالی کو اس سے کیا نقصان کہ ہم جماعت کی تعلیم و تربیت کریں یا نہ کریں۔ان سب باتوں میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔پھر کتنی بڑی بے وقوفی ہے اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ دین کے لئے ہماری قربانیوں سے خدا کو فائدہ ہو گا۔یہ تو خدا تعالیٰ کا بندوں سے ایسا ہی سلوک ہے جیسے کسی ماں سے کہا جائے تو اپنے بچہ کا منہ دھلاؤ تو تمہیں یہ انعام دیا جائے گا۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کہتا ہے تم اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرو۔اپنے بچوں کو تعلیم دو۔اپنی برادری بڑھاؤ۔تو تمہیں ہم ہمیشہ کے انعام دیں گے۔پس ہماری جماعت کو اچھی طرح یہ نکتہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ جو کچھ دین کے لئے کر رہے ہیں وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کر رہے ہیں۔اور جو لوگ اس میں ذرا بھی سستی اور کوتاہی کرتے ہیں۔وہ یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں حقیقی ایمان نہیں ہے۔جو شخص کسی غیر کا بچہ لے کر پالتا ہے وہ اس کی پرورش سے تنگ آجاتا ہے۔لیکن کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ ماں بھی اپنے بچہ کی پرورش سے تنگ آگئی ہو۔اگر تم لوگ دین کو اپنی چیز قرار دو اور سب سے ضروری اور اہم سمجھو تو پھر اس کی