خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 97

97 نصف دین ان کے ذریعہ مسلمانوں کو حاصل ہو گا۔پس اگر حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفاء نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور تم ان پر اعتراض نہیں کرتے۔حالانکہ تم ان کی وجوہ بھی نہیں جانتے۔تو کیا وجہ ہے کہ تم مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔ہاں اگر وہ گالیاں جو مجھے دیتے ہو۔ویسی ہی ان کو بھی دو اور جو اعتراض مجھ پر کرتے ہو وہی ان پر بھی کرو۔تب میں سمجھوں گا کہ تم نے دیانت داری سے مجھ پر اعتراض کیا ہے۔اب یا تو ان پر بھی ہاتھ صاف کردیا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ مجھ پر یانتداری سے اعتراض نہیں کئے جا رہے بلکہ شرار تا کئے جا رہے ہیں۔باقی رہا میری صحت کا معالمہ۔تم کہتے ہو میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں نکاح کروں۔میری صحت تو بچپن سے ہی خراب ہے۔اس لحاظ سے تو میری پہلی شادی بھی نہیں ہونی چاہئے تھی۔بچپن میں میری صحت خراب تھی اسی وجہ سے حضرت صاحب نے حساب کی تعلیم مجھ سے چھڑا دی تھی۔پھر محض شادی سے صحت نہیں بگڑ جایا کرتی۔اگر انسان صحت کے اصول کا خیال رکھے اور احتیاط کرے تو دس شادیوں کے ساتھ بھی صحت نہیں بگڑتی۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ میری صحت کے متعلق آپ لوگوں کو کب سے فکر پیدا ہوا ہے۔اس رنگ میں اعتراض کرنا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہ محض ایک بہانہ ہے۔اور اصل مقصد اعتراض کرنا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک عورت کو جس کی ایک آنکھ تھی ایک شخص جب سلام کہتا تو وہ اس پر برا مناتی۔لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی یہ مجھے سلام نہیں کہتا بلکہ کہتا ہے کہ بھابی کانی سلام۔اس کا سلام کرنا مجھے چھیڑنے کے لئے ایک بہانہ ہے۔اسی طرح ان کے نزدیک میرا شادی کرنا ایک عیب ہے۔جو مجھ پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔مگر کہتے یہ ہیں دیکھو جی۔میاں صاحب کی صحت خراب ہے۔گویا یہ ایک آڑ ہے جس کے پیچھے مجھ پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں میری صحت کی فکر ان کو کب سے ہوئی میری صحت کی فکر تو مجھے ہو سکتی ہے یا میرے عزیزوں اور میری جماعت کو ہو سکتی ہے۔ان کو میری صحت کی کیا پرواہ ہے۔ان کے نزدیک تو میں گمراہ کرنے والا ہوں۔دراصل وہ ایک بہانہ سے اعتراض کرنا چاہتے ہیں۔میں کہتا ہوں۔اگر ایک سے زیادہ نکاح کرنا برائی ہے۔تو یہ برائی تمہیں اوروں میں کیوں نظر نہیں آتی۔اکثر صوفیاء نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہیں۔پھر عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے کوئی ہی ہو گا۔جس نے ایک سے زیادہ نکاح نہ کئے ہوں۔دراصل غیر مبایعین کے اس قسم کے اعتراض نیش عقرب کے مصداق ہیں۔جن سے سوائے ہمیں دکھ پہنچانے کے اور کوئی فائدہ نہیں۔اور نہ کوئی ان سے مذہبی مسئلہ حل ہوتا ہے۔ہم سے