خطبات محمود (جلد 10) — Page 94
94 کہا۔پھر آپ دعوت کریں۔مولوی صاحب آجائیں گے۔میں نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن یہ موقعہ دعوت کے لئے مناسب نہیں۔کیونکہ یہاں نہ تو ہمارے پاس برتن کھانا پکانے کے لئے ہیں اور نہ آدمی کھانا پکانے والا ہے۔اس لئے پھر کسی موقعہ پر دعوت ہو سکتی ہے۔اس کے بعد وہ دوست چلے گئے اور مولوی صاحب سے یہ باتیں کہہ دیں۔میں جب یہاں واپس آیا۔تو آتے ہی میں نے اپنے اخباروں کے ایڈیٹروں کو سمجھا دیا کہ اب ان کے خلاف کوئی بات نہ لکھی جائے لیکن ادھر تو میرا یہ رویہ تھا کہ میں نے یہاں پہنچتے ہی اخباروں کے ایڈیٹروں کو ان کے خلاف لکھنے سے منع کر دیا اور ادھر اسی سفر کے متعلق ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی طرف سے پیغام میں ایک مضمون نکلا۔جس میں لکھا گیا کہ معلوم ہوتا ہے اب میاں صاحب کی آمدنی کم ہو گئی ہے اور ان کی جماعت ان کی فضول خرچیوں سے تنگ آگئی ہے۔کیونکہ اب سفر ڈلہوزی میں ان کے ساتھ شان و شوکت نہ تھی۔بہت سادگی کے ساتھ انہوں نے یہ سفر کیا۔اب دیکھئے ادھر تو صلح کے لئے بات چیت کی جاتی ہے اور میں واپس آکر اخبار والوں کو ان کے خلاف قلم اٹھانے سے روکتا ہوں۔اور ادھر میرے اس سفر کے متعلق لکھا جاتا ہے کہ اب معلوم ہوتا ہے۔میاں صاحب کو ان کی جماعت روپیہ نہیں دیتی۔اور ان کی فضول خرچیوں سے تنگ آگئی ہے اور جماعت میاں صاحب سے متنفر ہو رہی ہے۔کیونکہ اب کی دفعہ میاں صاحب کے ساتھ شان و شوکت نہیں تھی۔اس وقت میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔کیونکہ میں سمجھتا تھا۔بعض طبائع میں نیش زنی کی عادت ہوتی ہے۔شریف آدمی جو تعصب سے خالی ہو۔وہ خود ہی ان کی تحریر۔اندازہ لگا لے گا کہ ان کا دل شرافت سے خالی ہو چکا ہے۔مضمون ان کے کسی بچہ یا نوجوان کا نہیں تھا۔بلکہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا تھا جو مولوی محمد علی صاحب کے خسر ہیں اور جن کو ان کی جماعت میں خاص اعزاز حاصل ہے۔اب ان سے کوئی پوچھے۔ہماری کون سی بات ہوگی جس پر تم اعتراض نہیں کرو گے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے دل شرافت سے خالی ہو چکے ہوں اور جائز و ناجائز مخالفت کی کوئی پروانہ کریں وہ ہر بات پر اعتراض کر سکتے اور کرتے ہیں۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام جب دنیا میں آئے تو دشمنوں نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ سچا ہے تو اس کے ساتھ فوجیں کیوں نہیں مگر جب محمد رسول اللہ اللہ فوجوں کے ساتھ آئے تو کہہ دیا کہ یہ خونریزی کرتا ہے۔اگر سچا ہے تو فوجیں اس کے ساتھ کیوں ہیں۔اسی طرح ہماری حالت ہے۔اگر ہمارے ساتھ سفر میں جماعت کے کچھ آدمی