خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 67

67 قوم آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ہم نے تمھاری اس وقت مدد کی۔جب تم کو وطن سے نکالا گیا۔جب آپ کے عزیز رشتہ دار آپ کو مار ڈالنا چاہتے۔اس وقت ہم نے اپنی جانوں کو قربان کرکے ہر میدان میں تمھاری مدد کی اور تمھارے دشمنوں کو زیر کیا۔وہ قربانی کرنے والی قوم بھلا کہاں رسول کریم یا ان کی ان باتوں کو برداشت کر سکتی تھی۔ان کی چیخیں نکل گئیں۔اور بار بار کہتے۔یا رسول اللہ ہم نہیں ایسا کہہ سکتے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے انصار سنو۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ مکہ کا باشندہ تھا۔مکہ اس کی پیدائش کی جگہ تھی۔اس لئے مکہ کے حق اس پر بہت تھے۔خدا نے مکہ میں پھر واپس آنے کے سامان پیدا کر دیئے جب مکہ فتح ہو گیا اور اس کے عزیزوں رشتہ داروں کا بھی اس پر حق تھا کہ اب ان کے پاس رہے لیکن وہ تو مال اور مویشی لے کر اپنی گھروں کو چلے گئے اور تم خدا کا رسول اپنے گھروں میں لے آئے۔اب اے انصار یاد رکھو۔اس دنیا میں تم کو بادشاہت نہیں ملے گی۔اب حوض کوثر پر ہی مجھے ملنا۔۶۔وہاں تمھاری قربانیوں کے بدلے ملیں گے۔خدا کی قدرت دیکھو۔ابوسفیان کے بیٹے بادشاہ ہو جاتے ہیں اور یہ خاندان سینکڑوں سال تک دنیا پر حکومت کرتے ہیں اور بعد میں مغل آتے ہیں۔پٹھان آتے ہیں۔صدیوں تک حکومت کرتے ہیں۔لیکن وہ انصار جن کے خون سے اسلام کا باغ سینچا گیا۔اس قوم سے ۱۳۰۰ سال تک کوئی بادشاہ نہیں ہو تا۔کیوں؟ یہی بات ہے جس کی طرف سورہ فاتحہ میں توجہ دلائی گئی ہے۔دیکھو انعمت علیھم میں داخل ہونا اور انعام لیتا بھی بیشک بڑا مشکل ہے۔لیکن انعام کا قائم رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔اس لئے انسان کو اپنے دل و دماغ اور اپنی زبان پر قابو رکھنا۔چاہئے۔تاکہ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے۔جس سے اس کو اور اس کے خاندان اور اس کی قوم کو نقصان پہنچے۔جب تک ہر وقت انسان اپنے فہم اور تدبر سے کام نہ لیتا رہے۔اور روزانہ اخلاص میں ترقی نہ کرتا رہے۔تب تک وہ خطرہ سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔میرے اس خطبہ میں پہلے مخاطب قادیان والے ہیں۔پھر باہر کے لوگ۔اگرچہ اس خطبہ کے محرک باہر کے لوگ ہی ہیں لیکن پھر بھی پہلے مخاطب آپ لوگ ہی ہیں کیونکہ نیک نمونہ دکھانا سب سے پہلے آپ لوگوں کا فرض ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمارے اعمال اور ہمارے قلوب کی اس رنگ میں حفاظت کرے کہ ہم اس کے کسی انعام کی ناقدری کر کے اپنی کسی حرکت سے اس کے غضب کے نیچے نہ آئیں۔