خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 57

57 اگر کسی جگہ ہزار آدمی بیٹھا ہو اور ایک ایک کو پوچھنا شروع کریں تو دس یا بیس یا زیادہ سے زیادہ پچاس یا سو آدمی ایسے ملیں گے۔جو اپنے آپ کو تندرست کہیں گے۔اور ان میں سے بھی اگر ڈاکٹری طور پر دیکھا جائے۔تو کسی کے سر میں کوئی بیماری ہو گی۔کسی کی آنکھ میں کوئی نقص ہوگا۔کسی کی ناک میں کوئی خرابی ہوگی۔کسی کے سینے میں کوئی تکلیف ہوگی۔لیکن باوجود اس کے اس مجمع کو بیماروں کا مجمع نہیں کہا جاتا بلکہ ان کو تندرست ہی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ ان کے اندر عیب ہوتے ہیں۔پھر یہ عجیب نادانی ہے کہ اگر کسی قوم کے کسی فرد سے کوئی کمزوری ظاہر ہو۔تو اس کے متعلق یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ ہے ہی برا اور پھر اس سے آگے بڑھ کر ساری قوم پر الزام دے دیا جاتا ہے کہ یہ ساری قوم ہی بری ہے۔لیکن یہ ایسی بات ہے کہ اگر کوئی شخص ہسپتال میں جائے اور وہاں مریضوں کو دیکھ کر یہ کہہ دے کہ یہ سارا ملک ہی بیمار ہے۔یا اگر دو آدمی کسی جگہ کھڑے ہوں۔ان میں سے ایک کسی شخص کو دور سے پہچان کر کہہ دے کہ یہ فلاں آدمی ہے مگر دوسرا نہ پہچان سکے تو اس پر کہہ دیا جائے اس کو تو نظر ہی نہیں آتا۔اور پھر کہہ دیا جائے۔یہ سارا ملک ہی اندھوں کا ہے۔نادان اسی طرح انبیاء کی جماعت کے متعلق کہا کرتے ہیں اور یہ کچھ مخالف لوگوں پر ہی منحصر نہیں۔بعض اپنے بھی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر کسی میں نقص دیکھتے ہیں تو جھٹ کہہ دیتے ہیں۔جماعت بگڑ گئی۔اس طرح جماعت کی کمزوریوں کو ظاہر کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قوم بگڑ گئی۔حالانکہ اگر انہوں نے کوئی نقص دیکھا تو ایک شخص میں نہ کہ ساری قوم میں مگر وہ ایک ہی شخص سے تمام قوم کے متعلق رائے زنی کرنی شروع کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے متعلق بھی بعض لوگوں نے یہی دھوکہ کھایا ہے کہ بعض کمزوروں کی کمزوریوں یا اچھوں کی کمزرویوں کو دیکھ کر یہ رائے قائم کرلی کہ یہ ساری قوم ایسی ہے۔انگلستان میں اگر کوئی جائے۔تو وہاں بھی کچھ لوگ فاقہ کرتے نظر آئیں گے۔حالانکہ وہ دولتمند ملک ہے اب کیا ایسے لوگ جو اس قسم کی غلط رائیں قائم کیا کرتے ہیں ان فاقہ کرنے والوں کو دیکھ کر یہ کہہ دیں گے کہ سارا ملک بھوکا مر رہا ہے اور بالکل غریب ہے حالانکہ اس ملک کے دولتمند اور امیر ہونے میں کسی کو شک نہیں۔ایک دفعہ انگلستان سے آنے والے ایک شخص نے سنایا کہ میں ایک محلہ میں سے گذر رہا تھا میں نے دیکھا کہ چند لڑکے کوڑا کرکٹ میں سے روٹی کے ٹکڑے نکال نکال کر کھا رہے ہیں۔اس بات کو دیکھ کر اگر کوئی یہ کہے کہ اس ملک کے باشندے کوڑے کرکٹ سے چن کر روٹی کھاتے ہیں تو یہ