خطبات محمود (جلد 10) — Page 56
56 لوگ ضرور ا نعمت علیھم کے ماتحت ہیں۔ہاں ان کے سوا جو بعض اغراض کے ماتحت کسی نبی کے سلسلے میں داخل ہوئے یا داخل ہو کر گر گئے۔وہ سب انعمت علیھم کے گروہ کے سوا ہیں۔تو نبیوں کا کام ہسپتال کی طرح دیکھا جاتا ہے۔جس میں ہر قسم کی مرض والے ہوتے ہیں۔اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کام کس طرح کرتا ہے۔اور اس کے ہاتھ سے کس قدر مریض اچھے ہوتے ہیں۔مگر بعض نادان ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو ابھی اچھے نہیں ہوئے اور زیر علاج ہوتے ہیں یا جو دوائی ہی نہیں پیتے۔بعض لوگ مغضوب علیھم ولا الضالین سے انبیاء کا کام دیکھتے ہیں۔حالانکہ دیکھنا انعمت علیھم سے چاہئے۔ایسے لوگ آنحضرت ﷺ کے وقت بھی تھے۔جو ان کو تو نہیں دیکھتے تھے۔جو آنحضرت ﷺ کی تعلیم، تربیت اور فیضان سے صحت پاچکے تھے۔بلکہ ان کو دیکھتے تھے۔جو نئے نئے آپ کے شفا خانہ میں آتے یا ابھی زیر تربیت ہوتے یا اپنے باطنی نقص کی وجہ سے اصلاح نہ پکڑتے۔یا اگر اصلاح پکڑتے تو کمزور ہوتے۔ایسے لوگ مثال کے طور پر ابی ابن سلول کو پیش کیا کرتے۔اور کہتے دیکھو یہ نمونہ ہے مسلمانوں کا اور جب ان کو کسی سے کوئی معاملہ پیش آجائے تو جھٹ کہہ دیتے یہ ویسا ہی ہے جیسے فلاں شخص۔مگر کوئی ان سے پوچھے کہ اس ایک شخص سے ساری جماعت کا کیونکر اندازہ ہو گیا۔اگر غور سے دیکھا جائے تو دنیا میں کسی کے جسم میں کامل صحت نہیں پائی جاتی۔کوئی کسی بیماری میں مبتلا ہے اور کوئی کسی میں۔ہاں کسی میں مرض نمایاں طور پر ظاہر ہو چکی ہے اور کسی میں ابھی ظاہر تو نہیں ہوئی مگر ہے ضرور اور اسے تندرست ہی کہا جاتا ہے اور اگر ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے تو وہ بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ کچھ نہیں معمولی بات ہے۔لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہوتا وہ بیمار ہے۔پس جب باوجود اس کے کہ ایک شخص اپنے جسم میں بیماری رکھتا ہے اسے بیمار نہیں کہا جاتا تو کیا وجہ ہے کہ صرف ایک عیب کی وجہ سے کوئی شخص بدکاروں میں داخل سمجھا جائے۔دیکھو اگر کسی کے اعضائے رئیسہ تندرست ہوں لیکن کوئی خفیف سی بیماری اسے لگ جائے جو نمایاں طور پر ظاہر نہ ہو تو تم اسے تندرست ہی کہتے ہو بیمار نہیں کہتے پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر کسی وقت کسی سے کوئی کمزوری ظاہر ہو تو بدکاروں میں شمار کیا جائے۔یاد رکھو جس طرح وہ باوجود بیمار ہونے کے تندرست کہلاتا ہے اسی طرح وہ روحانی طور پر بھی تندرست ہی کہلائے گا۔کیا ہوا اگر کسی وقت اس سے کوئی کمزوری ظاہر ہو گئی۔