خطبات محمود (جلد 10) — Page 29
29 دیکھو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ولنبلونکم بشيء من الخوف والجوع و نقص من الاموال و الا نفس و الثمرات (البقرہ (۱۵۶) کہ ہم تم کو خوف بھوک اور تمھارے اموال تمہاری جانیں اور تمہارے ثمرات ضائع کر کے آزمائیں گے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد وہ چندے ہیں جو مومن خدا کی راہ میں دیتے ہیں۔اور وہ اموال مراد ہیں جو خدا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ہر گز نہیں کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی چندہ دے کر رو پڑا ہو۔اس سے مراد یہی ہے کہ مسلمانوں کے مال بعض جگہ ضائع ہوں گے اور ان کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔چنانچہ اس کی ایک مثال میں پیش کرتا ہوں۔جس میں رسول کریم اے کا مشورہ بھی شامل تھا اور کئی لاکھ روپیہ خرچ ہوا مگر صحابہ قطعا " نہ بولے وہ غزوہ تبوک ہے اس کے لئے رسول اللہ اللہ میں ہزار کا لشکر لے کر چلے فصل کی کٹائی کے دن تھے۔زمین دار سمجھ سکتے ہیں اس وقت کیسی حالت ہوتی ہے۔کم از کم دو ماہ کا سفر تھا اور اس سے زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا تھا۔اس عرصہ میں کھیتیاں یقیناً" برباد ہو جاتیں مگر حکم تھا سب چلو کیونکہ خبر ملی تھی کہ عیسائی حکومت روم کی بڑا لشکر جمع کر رہی ہے۔اس کے مقابلہ کے لئے رسول کریم تا ۲۰ ہزار کا لشکر لے کر چلے جس پر لاکھوں روپے صرف ہو گئے۔صرف حضرت عثمان کا چندہ ساٹھ ستر ہزار کے قریب تھا۔کم از کم خرچ کا اندازہ اتنے بڑے لشکر کے لئے ۲۰ لاکھ ہے۔اس کے علاوہ پیچھے جو کھیتیاں برباد ہو گئیں۔وہ علیحدہ ہیں مگر جب لشکر وہاں پہنچا تو معلوم ہوا دشمن کا کوئی لشکر وہاں نہ تھا اور یونی واپس چلے آئے ۵۔لیکن کسی نے اس نقصان کی پروا نہ کی کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ اب گئے تو ۱۵ - ۲۰ لاکھ خرچ ہوا اگر نہ جاتے اور دشمن حملہ آور ہو جاتا تو سارا عرب تباہ ہو جاتا۔اس لئے یہ نقصان نقصان نہیں ہے۔تو ضیاع ہوا ہی کرتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ہوتا نہیں یا آئندہ نہیں ہو گا۔ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ وہ قوم جو یہ کہتی ہے کہ ہمارا مال اتنا ضائع ہو گیا اور وہ اس وجہ سے ہمت ہار کر بیٹھ جاتی ہے اسے اگر کل تباہ ہوتا ہے تو آج ہی تباہ ہو جائے۔وہ اس بات کی مستحق ہے کہ تباہ ہو اس بات کی مستحق ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اسے پکڑ لے کیونکہ وہ بدنام کنندہ ہے قوموں کی۔الله خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اموال کے ضائع ہونے کے متعلق اشارہ فرمایا ہے کہ ولنبلونکم بشئ من الخوف والجوع و نقص من الاموال والانفس والثمرات جب یہ واقعہ ہوتا ہے تو مومنوں کی کیا حالت ہوتی ہے یہ کہ الذین اذا اصابتهم مصيبة قالوا انا للہ وانا الیہ راجعون کون کہہ سکتا ہے کہ اس نقص اموال سے مراد چندے ہیں یہ تو وہی مال ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے ضائع ہو گا