خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 268

268 تعداد میں شمولیت اختیار کی اور نہ صرف یہ کہ شمولیت ہی اختیار کی بلکہ ان اعلیٰ طبقہ کے لوگوں نے پرلے درجے کی دلچسپی بھی لی اور خوشی محسوس کی۔بعض نے تو کام کرنے میں بھی فخر سمجھا اور بڑے شوق سے انہوں نے ہر کام میں حصہ لیا۔پھر ہندوستان کے بڑے بڑے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے۔حتی کہ مہاراجہ بردوان بھی شامل ہوئے۔جنہوں نے اس موقعہ پر تقریر کرنے کی اجازت مانگی اور خوشی کا اظہار کیا۔اور کہا کہ گو میں ہندو ہوں مگر میں اس میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔پھر گیارہ حکومتوں کے قائم مقام بھی اس موقعہ پر آئے۔جرمنی۔اٹلی۔چین۔وغیرہ ملکوں کے وزیر بھی تھے۔پس یہ جو اب ہے ان لوگوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ کہاں گیاوہ روپیہ جو مسجد کے لئے جمع ہوا تھا۔وہ سن لیں وہ روپیہ یہاں گیا۔میں ایسے لوگوں سے پھر کہتا ہوں کہ یہ روپیہ ضائع نہیں گیا۔بلکہ محفوظ ہے اور نفع کے رنگ میں اصل سے بھی بڑھ گیا ہے۔مکان اور زمین پر ستر ہزار کے قریب خرچ ہوا ہے۔ساٹھ ہزار مسجد کی تعمیر اور سامان وغیرہ پر صرف ہوا۔ستر ہزار وہاں تجارت پر لگا ہوا ہے۔جو اس لئے وہاں لگایا گیا ہے۔کہ اس کے نفع سے وہاں کے مشن کے اخراجات پورے کئے جائیں۔ساٹھ ستر ہزار کی زمین قادیان میں موجود ہے۔پس جس محنت محبت اور دانائی کے ساتھ یہ روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔اگر اس سے کام نہ لیا جاتا تو اس سارے روپے سے جو ہمیں دیا گیا۔اتنا کام بھی نہ ہو تا جتنا کہ اب ہوا ہے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ یہ کام بھی ہو گیا ہے اور ہمارے پاس کافی جائداد بھی موجود ہے۔تجارت پر جو روپیہ لگا ہوا ہے وہ الگ ہے قادیان کی زمین الگ ہے۔پس یہ کام نہایت ہی اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ کیا گیا ہے۔ورنہ نہ تو مسجد بن سکتی تھی اور نہ ہی اس قدر جاندار ہاتھ میں رہ سکتی تھی۔اس نمونہ کی عمارت کا اندازہ ڈیڑھ لاکھ سے کم نہ تھا۔اور جب بھی مجھے ہمارے لندن کے دوست اس سے اطلاع دیتے۔میں انہیں لکھتا کہ اور اندازہ کراؤ اور اندازہ کراؤ۔شائد کسی جگہ سے اس اندازے سے کم رقم کا اندازہ لگایا جا سکے۔تو ہمارے لندن کے دوستوں نے رات دن محنت سے کام کیا اور کوئی ایسی کمپنی نہ تھی جو عمارات کا کام کرتی اور ایسے اندازے لگاتی ہو جسے ہمارے دوستوں نے چھوڑا۔آخر ان کی کوششوں اور محنتوں سے ایک کمپنی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ اتنے روپے میں کہ جتنا اس پر اب خرچ آیا یہ عمارت بنوا دے گی۔پس اگر معمولی طور پر اس کام کو کیا جاتا تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ تو اسی پر لگ جاتا۔اسی طرح مکان اور زمین کی خرید کا حال ہے۔یہ سب کارکنوں کے اخلاص اور محنت اور محبت کا نتیجہ ہے۔اتنے روپے میں مسجد تیار ہو گئی۔ہر وقت اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ آدم کے ساتھ شیطان کا ہونا ضروری ہے۔خدا کا مسیح