خطبات محمود (جلد 10) — Page 264
264 اس سے ان اخبارات کی عظمت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ان اخباروں میں اس مسجد کا ذکر آیا ہے۔اور ان کے ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں نے اور ان کے نمائندوں نے بڑے عمدہ الفاظ میں اس کا ذکر کیا۔پھر کئی اخبارات میں اس مسجد کے فوٹو بھی چھپے۔اس طرح ہزاروں بلکہ کروڑوں آدمیوں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر جا پہنچا۔وہ اس قسم کے بڑے طبقے کے ایک نہیں کئی اخبارات شائع ہوا ہے کہ پندرہ سال سے مسلمان کوشش کر رہے تھے۔مسلمان حکومیتں ان کی تائید میں تھیں۔دولتمند لوگ اس کے لئے تیار تھے مگر باوجود ان سب باتوں کے وہ کچھ نہ کر سکے۔اور کوئی مسجد وہاں کھڑی نہ کر سکے۔لیکن احمدی قوم نے جب اس کام کا بیڑا اٹھایا تو کام کر لیا اور ایک مسجد وہاں کھڑی کر دی۔سلطان عبدالحمید ترکی کے سابق بادشاہ ہندوستان کے رؤساء اور دوسری مسلمان سلطنتیں اور مسلمان امراء سب ہی اس کی تائید میں تھے کہ ضرور لندن میں ایک مسجد بنانی چاہئے۔مگر باوجود ہر قسم کے سامان ہونے کے نہ بنا سکے۔لیکن احمدیوں نے جب اس مسجد کا ارادہ کیا تو اسے کوئی دیر نہ لگی۔کلکتہ کے " نظمین" نے بھی یہی لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ہیں پچیس سال کی کوشش تھی۔حکومتیں بھی اس خیال میں تھیں۔لیکن احمدیوں کو اس میں کامیابی ہوئی اور انہوں نے جب ارادہ کیا کہ ایک مسجد لندن میں بنانی چاہتے تو فورا" بنا لی۔غیر تو اسے کامیابی جتائیں لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اپنوں میں سے بعض نے کہ جن کی خوشیوں کی اس کامیابی کی وجہ سے کوئی حد نہیں ہونی چاہئے تھی۔فتنہ گروں کی وجہ سے طرح طرح کی بدگمانیاں کرنی شروع کر دیں۔اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اتنا روپیہ برلن کی مسجد کا تھا۔اتنا وہ تھا۔اتنا روپیہ گیا کہاں۔حالانکہ متواتر یہ بتایا گیا کہ پچھتر ہزار یا اسی ہزار روپیہ مکان اور فرنچر وغیرہ پر خرچ ہوا تھا۔لندن کو اپنے شہروں پر قیاس نہ کر لو۔وہ بہت بڑا شہر ہے۔اور وہاں جائداد کی قیمتیں بھی بہت بڑی ہیں۔یہاں لاہور میں ہم ایک مسجد بنانے لگے تھے۔اس کے لئے جو زمین خریدی گئی تھی۔وہ غالباً بیس ہزار روپیہ کو آئی تھی اور لاہور کی لندن سے کوئی نسبت ہی نہیں۔چالیس لاہور اگر اکٹھے ہوں تو ایک لندن بنتا ہے۔وہاں تو اول زمین لینا ہی مشکل تھا۔یہ تو ایک موقعہ نکل آیا کہ وہاں بعض وجوہ سے جائداد کی قیمت گر گئی اور ایک ستا مکان مل گیا۔لندن کی مسجد کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا۔ستر ہزار روپیہ برلن کی مسجد کے لئے جمع ہوا تھا۔اس میں سے ستر اسی ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ کے خریدنے پر صرف ہوا اور ساٹھ ہزار روپیہ سے تجارتی کام چلایا گیا۔جس کی غرض یہ ہے کہ اس کی آمد سے وہاں کا مشن چلایا جائے۔اب کوئی ساٹھ ہزار روپیہ اس کی تعمیر پر لگا ہے۔یہ روپیہ ایک لاکھ نوے ہزار بنتا ہے۔اور تیس ہزار روپیہ کی یہاں جائدادیں خریدی ہوئی ہیں۔