خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 263

263 ہے۔کے کونہ کونہ میں پہنچاؤں گا۔اور تیرے ذکر کو بلند کروں گا۔اس نے آپ کا نام دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچا دیا اور آپ کا نام بلند کر دیا۔چنانچہ آج آپ کا نام دنیا کے ہر گوشہ اور دنیا کی ہر قوم میں پہنچ رہا قومیں اور نسلیں آپ کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں اور دنیا میں کو بکو آپ کا چرچا ہو رہا ہے اور یہ وہ باتیں ہیں جو اندھوں کو بھی نظر آ رہی ہیں تو ہم جو ماننے والے ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھ سکتے۔ایک ایک کر کے۔دو دو کر کے۔تین تین کر کے۔چار چار کر کے تمام ممالک کے لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔اور لوگ ان میں سے نکل کر آپ کے پاس جمع ہو رہے ہیں۔پس یقین رکھو کہ خدا جو کہتا ہے اسے ضرور پورا بھی کرتا ہے۔بڑی قوم جو اسلام کے مقابل پر ہے اور جو شدت سے اسلام کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے وہ عیسائیوں کی قوم ہے مگریہی عیسائیوں کی قوم مٹھی بھر احمدیوں سے ڈرتی ہے کیا بات ہے جس سے وہ اس چھوٹی سے جماعت سے تو ڈرتی ہے مگر تمام مسلمانوں سے خوف نہیں کھاتی۔یہی ہے کہ یہ جماعت خدا کے مسیح کے ماننے والوں کی جماعت ہے جو اس لئے آیا کہ اسلام کے دشمنوں کو نیچا دکھائے اور اسلام کے ذکر کو بلند کرے۔پس وہ آیا اور اس نے اسلام کے دشمنوں کو نیچا دکھایا۔اسلام کے ذکر کو بلند کیا اور آج وہ دن ہے کہ عیسائیت کے بت کے پاؤں کانپ رہے ہیں۔اس کے ہاتھوں پر رعشہ گر گیا ہے اور اس کا جسم مفلوج ہو رہا ہے۔اور خود وہ تھرا رہی ہے۔یہ خدا کے کام ہیں اور اس کی قدرتیں۔دشمن بھی ان کو دیکھ رہا ہے۔پھر کیا افسوس نہیں ہوگا کہ دشمن تو اس ساری کیفیت کو دیکھیں اور جو دیکھنے والے ہیں وہ نہ دیکھیں۔پس ہمارا کام ان کو دیکھنا ہے اور دین اسلام کو بلند کرنا۔ابھی تازہ واقعہ مسجد لندن کا ہوا ہے بڑے بڑے دشمنوں نے اقرار کیا ہے کہ یہ واقعی اس جماعت کے خدمت اسلام پر ہر وقت کمر بستہ رہنے کی دلیل ہے۔کئی اخبارات نے اس کا اپنے کالموں میں تذکرہ کیا ہے ولایت کے اخباروں کی یہ حیثیت نہیں ہے جو ہمارے ملک کے اخبارات کی ہے۔بعض ان میں سے پچیس پچیس لاکھ چھتے ہیں۔بعض کی آمدنیاں حیدر آباد کی ریاست کی آمدنی سے بھی تگنی تگنی اور چوگنی چوگنی ہیں۔ایک اخبار کی سات آٹھ بلکہ دس لاکھ کی آمدنی ہے ایک موقعہ پر ایک لڑکے نے ایک اخبار کی ایک دن کی ساری اشاعت خرید لی اور ایک ہی دن میں اس کی فروخت سے ایک لاکھ روپیہ کما لیا۔اس کو کسی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ یہاں سٹرائک ہو جائے گی اور اس دن اس شہر میں کوئی اخبار نہیں چھپے گا۔اس نے ایک دن پہلے ایک دوسرے شہر میں چھپنے والے اخبار کے مالک کو تار دے دیا کہ فلاں تاریخ جو اخبار چھپے گا میں اس کی ساری کاپیاں خریدوں گا۔چنانچہ اس نے اس ایک دن کے اخبار کی فروخت سے ایک دن میں ایک لاکھ روپیہ کما لیا۔تو