خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 262

262 اپنے فضل و کرم سے پھر وہی دن لایا ہے۔اور ایک شخص ظاہر ہوا ہے۔جس کی آواز پر لبیک کہنے والے آپ ہیں۔اس لئے اپنی قدر کو پہچانو۔اور اپنے اوقات کو ایسے رنگ میں خرچ کرو کہ دین پھیل جائے۔اگر اب ستی کرو گے تو سمجھ لو ہمارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔پس تم اپنے علوم کو اپنے اموال کو اپنی طاقتوں کو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کرو تا ترقی ہو۔میں کس طرح اور کن الفاظ میں بیان کروں کہ خدا تعالی کی طرف سے راستے کھولے گئے ہیں۔اس نے تمھاری رہبری کے لیئے سامان پیدا کر دئے ہیں۔اس نے تمھاری رہبری کے لئے ایک شخص کو بھیج دیا ہے۔اس نے تمھیں دین کی خدمت کے لئے چن لیا ہے پس تم غفلت نہ برتو۔اس کی نعمتوں کی بے قدری نہ کرو۔تاکہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بے قدری ان نعمتوں کے چھن جانے کا باعث بنے۔کوئی شخص دنیا میں نہ پاؤ گے کہ وہ کسی کو چیز دے اور وہ اس کی بے قدری کرے تو وہ ناراض نہ ہو یا کوئی کسی کو کہے کہ آتجھے کھانا دیں۔اور وہ آگے سے کہہ دے نہیں میں نہیں لیتا تو وہ پھر بھی اسے دے۔یا کوئی کسی کو کسے آتجھے عمدہ کپڑا دیں اور وہ کہہ دے مجھے تمھارے کپڑے کی ضرورت نہیں۔اور وہ پھر بھی اسے دینے کی کوشش کرے یا کوئی کسی سے کہے۔آ تجھے مکان دیں اور وہ کہہ دے کہ نہیں میں تمھارا مکان نہیں لینا چاہتا۔تو وہ پھر بھی زبردستی اسے دے۔پھر یہ بھی کبھی نہ دیکھو گے کہ کسی شخص نے کسی کو کچھ دیا اور اس نے اس کی بے حرمتی اور بے قدری کی ہو تو اسے طیش نہ آئے اور وہ آگے اسے کچھ دینے سے ہاتھ نہ کھینچ لے۔پس جب انسان کو اپنی دی ہوئی چیز کی بے قدری اور بے حرمتی پر طیش آ سکتا ہے۔تو اگر کوئی چیز خدا کی طرف سے دی گئی ہو۔اور اس کی بے قدری اور بے حرمتی کی گئی ہو تو خدا کو طیش کیوں نہ آئے۔پس سنو اور سمجھو کہ یقیناً خدا کو بھی طیش آجاتا ہے اور وہ بھی ناراض ہو جاتا ہے۔اور اس کی ناراضگی یہی ہے کہ وہ دی ہوئی چیز چھین لیتا ہے اور آگے دنیا بند کر دیتا ہے۔اس کے طیش کے مقابل میں دنیا کے طیش پیچ ہیں۔خدا کے طیش کو جو انسان پر بے قدری اور بے حرمتی سے اسے آتا ہے۔اس طیش کے مقابل میں انسان کا طیش کچھ شے نہیں۔ایک مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں۔پس اگر تم اس کی نعمتوں کو پانا چاہتے ہو۔اگر تم اس کی رحمت کے دروازے پھر اپنے اوپر کھلے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی ان نعمتوں کی قدر کرو۔جو اس نے تمھیں دی ہیں۔اس کی تعلیم پر عمل کرو اس کے احکام کو مانو۔فسادوں ، لڑائیوں ، جھگڑوں ، فتنہ انگیزیوں اور شورشوں کو چھوڑ دو۔کیونکہ یہ سب ناشکری کی علامتیں ہیں اور بے قدری و بے حرمتی کی نشانیاں ہیں۔دیکھو خدا جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔محمد ایلیا کو اس نے کہا میں تمھیں بلند کروں گا اور اس نے آپ کو بلند کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ میں تیرے نام کو دنیا