خطبات محمود (جلد 10) — Page 256
256 میں بھی جاتا ہے۔اسے یسوع مسیح کی تو ہین پر غصہ بھی آتا ہے اور ان کاموں پر جو حضرت عیسی کی طرف منسوب ہیں۔ہندوستان میں جتنے وائسرائے اور جتنے گورنر آتے ہیں وہ سب مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں اور گرجوں میں جاتے ہیں لیکن مسلمانوں کی یہ حالت نہیں۔ذرا ان میں کوئی آسودہ حال ہو جائے تو اگر وہ پہلے مسجد میں جاتا تھا تو پھر مسجد میں جانا بھی چھوڑ دیتا ہے۔اگر وہ پہلے کچھ مذہبی رنگ رکھتا تھا تو پھر اس سے بھی غافل ہو جاتا ہے۔غرض مسلمانوں کا وہ حال نہیں جو دوسرے مذہب والوں کا اپنے مذہب سے لگاؤ کی وجہ سے ہے۔ان کی حالت بگڑ گئی ہے ان کے چلن خراب ہو چکے ہیں۔ان کی شان و شوکت باقی نہیں ہے۔وہ چھوٹے ہیں مگر بڑا کہلانا چاہتے ہیں بلکہ بڑا کہلانے والوں میں سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔دنیا کے لئے وہ ہر کام کرنے کو تیار ہیں لیکن نہیں اگر تیار تو دین کے کام کے لئے نہیں تیار۔دنیا کی طرف ان کی توجہ پھر سکتی ہے لیکن نہیں اگر پھر سکتی تو خدا کی طرف ان کی توجہ نہیں پھر سکتی۔ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ان کے نزدیک زیادہ قیمت ہے لیکن خدا کی اتنی بھی نہیں۔پھٹے ہوئے کپڑے کی زیادہ عزت ان کی نظروں میں ہے لیکن خدا کے کلام کی اتنی بھی عزت ان میں نہیں۔وہ ٹوٹی ہوئی جوتی اور پھٹے ہوئے چیتھڑے کو سنبھال کر رکھیں گے کہ کسی وقت کام آجائیں گے۔لیکن خدا اور خدا کے کلام کی طرف مطلقاً توجہ نہیں کریں گے۔خدا کا کلام خواہ رہے یا ضائع ہو جائے مگر انہیں پروا نہیں اور خدا کی ذات ان کی نظروں میں ایسی بھیانک ہو گئی ہے۔جیسے کوڑھی کہ جس کے جسم سے کیڑے چلتے ہوں اور جس سے اتنی گھن آتی ہو کہ پاس بھی بھٹکنے کو جی نہ چاہئے۔حضرت خلیفۃ المسیح اول فرماتے تھے۔بھوپال میں ایک بزرگ تھے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی پل پر پڑا ہے جس کے بدن پر کوڑھ تھا اور اس سے سخت تعفن اٹھ رہا تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا میاں تم کون ہو جو اس طرح پڑے ہو۔اس نے کہا میں اللہ میاں ہوں۔میں خدا ہوں۔وہ بزرگ کہتے ہیں رڈیا میں ہی مجھے ایسی گھن پیدا ہوئی کہ میں گھبرا گیا اور اس شخص کے جواب سے سخت متعجب ہوا کیونکہ ہم نے تو قرآن شریف میں پڑھا تھا کہ خدا میں سب خوبیاں ہیں۔ا کا۔وہ منبع ہے کمالات کا۔وہ منبع ہے تمام حسنوں کا۔وہ منبع ہے تمام بھلائیوں کا۔وہ منبع ہے تمام قدرتوں کا لیکن یہ تو مجموعہ ہے سب بدصورتیوں کا۔مجموعہ ہے سب کمزوریوں کا۔پھر ہم نے تو یہ سنا ہوا تھا کہ وہ عیب سے پاک ہے لیکن یہاں حالت بالکل برعکس ہے۔یہ سن کر اس نے جواب دیا میں بھوپال کے لوگوں کا خدا ہوں انہوں نے مجھے ایسا ہی سمجھ رکھا ہے کہ میں بدصورت عیبوں سے بھرا ہوا لنجا کوڑھی اور کمزور ہوں کیا وہ خوش قسمتی کا زمانہ ہوگا جس میں بھوپال کا خدا ایسا بنا ہوا تھا۔ہرگز نہیں۔لیکن بخدا