خطبات محمود (جلد 10) — Page 235
235 حالت میں اگر کسی کے دل میں اس کے نام کی غیرت ہے تو وہ کس طرح خاموش رہ سکتا ہے۔ہم لوگوں کو سوٹے سے منوانا نہیں چاہتے۔ہم فوجوں کے ساتھ لڑ کر اس کا نام قائم کرنے کی تعلیم نہیں دیتے۔ہم چاہتے ہیں کہ تم زبان کے ساتھ اسلام کو سکھاؤ۔قلم کے ساتھ اسلام سکھاؤ۔لوگوں کے پاس چل چل کر جاؤ اور اسلام سکھاؤ۔ان تمام باتوں کی طاقت خدا تعالٰی نے ہمیں دی ہے۔قلم دی ہے۔دل مضبوط دیا ہے۔دلائل دئے۔غرض تمام طاقتیں دی ہیں پس ہم اسلام کی سچائی کے خزانہ کو لوگوں میں تقسیم کریں۔اس کے لئے نہ فوج کی ضرورت ہے نہ تلوار کی۔صرف قلم کی ضرورت ہے یا زبان کی۔خدا نے یہ طاقتیں ہماری امیدوں سے بڑھ کر دی ہیں۔ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم دیوانہ وار اٹھ کھڑے ہوں اور توحید کی سچائی کو لوگوں میں پھیلائیں۔جو کوئی اللہ کے نام کے لئے دیوانگی ظاہر نہیں کرتا۔اس میں خدا کی محبت بھی کم پائی جائے گی۔دیوانگی کی حالت میں وہ کام بھی جو دوسری صورت میں ناممکن نظر آتے ہیں۔انجام پا جاتے ہیں ہم نے سکول کے زمانہ میں ایک کہانی پڑھی تھی یعنی ایک عورت کا بچہ عقاب لے اڑا اور ایسی چوٹی پر لے گیا جہاں کسی کا چڑھنا ناممکن تھا۔مگر وہ عورت اپنے بچہ کی محبت میں دیوانہ وار چڑھتی چلی گئی اور یہاں تک کہ اپنے بچہ کے پاس جا پہنچی۔بچہ کو پالینے کے بعد جب واپس اترنے لگی تو یہ اس کو ناممکن معلوم دیا۔رسول کریم ﷺ کو لوگ کیوں مجنوں اور دیوانہ کہتے تھے۔اسی لئے کہ آپ لوگوں کو دیوانہ وار خدا کا کلام سناتے تھے۔پس جب تک دین کے لئے دیوانہ نہ بن جاؤ گے۔اس کو قائم نہیں کر سکتے۔ایسے لوگ ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں۔جو اپنے کام کے لئے دیوانہ بن جاتے ہیں۔جب لوگ دیوانہ وار اسلام کو پہنچائیں گے۔لوگوں کے دلوں میں سرنگ لگ جائے گی۔اور دل فتح ہو جائیں گے اور توحید کی روشنی پھیل جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس کی توفیق دے اور اسلام کے پھیلانے کی نعمت کا وارث بنائے۔آمین الفضل || اکتوبر ۱۹۲۶ء)