خطبات محمود (جلد 10) — Page 222
222 ہوں صرف لذت ہی لذت رہتی ہے یا کچھ ملتا بھی ہے۔اس پر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے۔ہمارے ایک پیر تھے جو کئی طرح کے وردو ظائف میں مشغول رہتے اور کہتے میں عرش پر سجدہ کرتا ہوں لیکن جب فصل کا وقت آتا تو گھر بہ گھر پھرتے اور غلہ جمع کرتے۔سجدہ عرش پر کرتے تھے اور سوال زمین کے لوگوں سے کرتے تھے۔حالانکہ سوال کرنا منع ہے۔جو شخص عرش پر سجدہ کرتا ہو اس کے پاس تو ہر ایک چیز ہونی چاہئے۔اور اسے کسی سے سوال نہ کرنا چاہئے مگر اس شخص کی یہ حالت تھی کہ لوگوں سے تو کہتا کہ میں عرش پر سجدہ کرتا ہوں مگر سوال دوسروں سے کرتا۔حالانکہ مومن تو اپنے کام کا صلہ لینا بھی پسند نہیں کرتا کجا یہ کہ سوال کے لئے ہاتھ پھیلائے۔ورود دیکھو آنحضرت ﷺ نے جو بھی کام دنیا میں کیا سراسر دنیا کی بھلائی کے لئے کیا مگر باوجود اس کے آپ نے کبھی کوئی صلہ طلب نہیں کیا بلکہ یہی فرماتے رہے ہم اس کا اجر نہیں مانگتے۔باوجود اس کے کہ آنحضرت اللہ نے اجر طلب نہیں کیا خدا نے آپ کو دیا۔یہ جو ہزارہا انسان آپ پر در پڑھتے ہیں یہ اجر ہی ہے۔اگر آپ وہ کام نہ کرتے جو آپ نے دنیا کے لئے گئے تو کون آپ پر دروز بھیجتا۔غرض آپ کو اجر تو ملا لیکن آپ کے دل میں یہ خواہش نہ تھی کہ ملے مگر اللہ تعالیٰ دلاتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بندوں کو ناشکر انہیں بنانا چاہتا۔غرض مومن اگر کوئی کام کرتا ہے تو اس کے اجر کے لئے سوال نہیں کرتا لیکن خدا تعالیٰ جب اسے دلاتا ہے تو پھر انکار بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انکار سے کفران نعمت لازم آتا ہے۔مگر ایک شخص سجدہ تو عرش پر کرتا ہے مگر اس کی خواہشات ملتی نہیں جو لذت اسے درود و ظائف سے حاصل ہوتی ہے وہ دراصل بھنگ پینے والوں کی لذت کے برابر ہے۔حقیقی روحانیت اس تعلق باللہ کا نام ہے جس سے بلا واسطہ ایک شخص اپنا تعلق خدا کے ساتھ محسوس کرتا ہے اور جس سے رفتہ رفتہ وہ ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے کہ فرشتوں کو بھی درمیان سے ہٹا دیا جاتا ہے۔چنانچہ معراج میں یہی ہوا۔ایک مقام پر پہنچ کر جبرائیل بھی رک گئے۔مگر یہ بات اوراد کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتی۔ان طریقوں پر عمل کرنے سے ہو سکتی ہے جو شریعت نے مقرر گئے ہیں۔یہ آخری زمانہ کے لوگ جو بدعتی ہیں لوگوں کو بھنگ وغیرہ پلا کر نظارے دکھاتے اور کئی کئی دنوں کے نظارے دکھاتے ہیں۔جس سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بس جی پیر صاحب بڑے باکمال ہیں کہ اتنے لمبے عرصہ کے نظارے تھوڑے وقت میں دکھا دیئے مگر یہ پیر صاحب کا کمال نہیں ہوتا بلکہ