خطبات محمود (جلد 10) — Page 210
210 مشورہ بعد میں صحیح اور درست ثابت ہو۔تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان معاملوں میں خدا تعالیٰ ہماری رہبری کرتا ہے۔اور ہمیں صحیح رائے دینے اور مفید مشورہ بتانے کے لئے خود اپنے فضل سے سکھلاتا ہے۔پس جب یہ حال ہے تو کیا ان لوگوں کا جو کہ صحیح مشورہ نہ بتائے جانے کے سبب پے در پے تکلیفوں برداشت کر رہے ہیں یہ فرض نہیں کہ وہ ان تکلیفوں سے نجات پانے کے۔لئے ہماری باتوں کی طرف پوری توجہ کریں اور وقت پر ان کو زیر عمل لا کر اپنی حفاظت کریں۔انہیں مشوروں میں میں نے مسلمانوں کے سامنے یہ بات بھی پیش کی تھی کہ ایک لیگ آف مسلم نیشن ہونی چاہئے مگر مسلمانوں نے جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ قادیان سے اٹھنے والی ہر بات کی مخالفت کی جائے قطع نظر اس سے کہ وہ مفید ہو یا غیر مفید اس کی بھی پرواہ نہ کی۔اور میری اس تجویز کو جو سراسر مسلمانوں کے فائدے کے لئے تھی نہ مانا مگر آج وہ دن ہے کہ چاروں طرف سے مجبور ہو کر وہ اسی طرف جا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک متحدہ لیگ ہونی چاہئے۔جس میں تمام اسلامی فرقوں کو شریک ہونا چاہئے۔گو ابھی پوری طرح ادھر رخ نہیں ہوا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جا اسی طرف رہے ہیں۔لاہور میں میں نے بریڈ لا ہال میں ایک دفعہ تقریر کی تھی۔اس میں میں نے ہندو مسلم اتحاد کے متعلق بیان کیا کہ یہ اتحاد ہو نہیں سکتا جب تک حقوق کا تصفیہ نہ ہو جائے اور جب تک پہلے ایک دوسرے کی شکایات نہ سنی جائیں پھر ان کے دور کرنے کی تجویز میں نہ سوچی جائیں۔کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے گا اور صرف اتحاد پر زور دیا جائے گا تو یہ اتحاد نہ ہو گا۔میں نے وہاں یہ مثال بھی دی تھی کہ دو زمیندار جن کا کسی منڈیر پر جھگڑا ہو جائے اور وہ از خود یا کسی تیسرے شخص کے سمجھانے سے جھگڑا بند کر دیں اور ہر ایک ان میں سے دوسرے کا بھائی بن جائے اور وہ اس صفائی کے بعد جھگڑے کے خیال سے رو بھی پڑیں مگر ہر ایک ان میں سے یہ سمجھ کر پھر دل کو تسلی دے لے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا اس منڈیر کو چھوڑ دے گا تو جس دن ایک ان میں سے ہل چلانے جائے گا ان کی آپس میں سر پھٹول ہو جائے گی کیونکہ ہر ایک ان میں سے یہ سمجھ رہا تھا کہ شائد دوسرے نے چھوڑ دیا ہے۔اور جب پھر ان میں صفائی کی کوشش کی جائے گی تو ہر ایک ان میں سے یہی کہے گا کہ میں نے میں سمجھا تھا کہ شائد یہ اسے چھوڑ دے گا۔میں نے اس وقت اس مثال کے بتانے کے بعد کہا تھا جب تک تصفیہ حقوق نہ کر لو گے صلح کام نہ آئے گی اور جب تقسیم دولت کا وقت آئے گا تو پھر شکایات ہوں گی اور پھر وہی جھگڑا ہو گا۔لیکن میرے اس مشورہ پر جو عین وقت پر دیا گیا غور نہ کیا گیا۔اور اور