خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 207

207 میں بھی پیچھے ہیں۔Organization یعنی نظام و تنظیم میں بھی پیچھے ہیں۔ہندوؤں نے جو نظام قائم کیا ہے برابر اس پر قائم ہیں۔مسلمان مجسٹریٹوں پر رشوت وغیرہ کے مقدمات بنا کر نکلوا رہے ہیں۔مسلمانوں کے نقصان جان و مال کے لئے ہر ضلع میں ان کی کمیٹیاں ہیں۔مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچانے کے لئے انہوں نے باقاعدہ گروہ بنائے ہوئے ہیں اور جب وہ کوئی نقصان مسلمانوں کو پہنچاتے ہیں تو مسلمان کچھ دیر کے لئے تلملاتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں۔ہر محکمہ میں انہوں نے ایک ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔اور وہ ہر طرح کوشش کر کے مسلمانوں کو نکلوا دیتے ہیں اور پہلے ہی سوچ رکھتے ہیں کہ اگر یہ جگہ خالی ہو گئی تو میں اپنے فلاں رشتہ دار کو اس جگہ لے آؤں گا۔پھر انہوں نے یہ انتظام بھی کیا ہوا ہے ہے کہ اگر محکمہ کا کوئی ایک آدمی بھی مسلمان کے برخلاف آواز اٹھائے تو سب طرف سے وہی آواز اٹھنے لگتی ہے۔اور اس انتظام کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جس شخص کے برخلاف یہ آواز اٹھائی گئی۔وہ آواز کچی ہو یا جھوٹی۔وہ بدنام ہو جاتا ہے۔بدنام ہو نا تو ادنی سی بات ہے وہ وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔یہ عام لوگوں ہی کی عادت نہیں۔بلکہ ہندوؤں کے ان لوگوں کی بھی یہی عادت ہے جو بظاہر صلح کن نظر آتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے بچے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں۔پھر اس طبقہ میں بھی یہ بات عام طور پر پائی جاتی ہے جو تعلیم یافتہ طبقہ کہلاتا ہے۔ایک ہندو مجسٹریٹ قانون کے اندر رہ کر بلکہ بعض اوقات قانون کی پابندی کو توڑ کر بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اس بات کی پرواہ نہیں رکھتا کہ اسے کیا کہا جائے گا۔لیکن ایک مسلمان مجسٹریٹ ایسا نہیں کرتا۔ایک ہندو کے بالمقابل ایک مسلمان کے فوائد کو مد نظر رکھنا تو الگ رہا۔وہ الٹا مسلمانوں کو بلا وجہ تکلیف دیتا ہے اور نقصان پہنچاتا ہے اور ایسا کرنے میں اس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اسے بے تعصب کہا جائے۔پھر بعض وقت وہ ڈر کے مارے بھی ایسا کرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو ہندو میرے مخالف ہو جائیں گے اور پھر شائد مجھے یہاں سے نکلوا دیں۔پس یہ وجہ ہے کہ مسلمان ہر جگہ نقصان میں رہتے ہیں اور جو تدبیر بھی وہ کرتے ہیں اس میں ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اگر غور سے دیکھا جائے تو انہیں تدبیریں کرنا آتا ہی نہیں اور اگر آتا ہے تو ان پر کار بند ہونا نہیں آتا یہ سب باتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں کی مشکلات اور تباہی کا باعث ہو رہی ہیں۔یہ لوگ ہمیں پاگل سمجھیں یا بیوقوف مگر بات کچی یہی ہے کہ جب تک یہ اس زمانہ کے مامور پر ایمان نہیں لائیں گے ہر گز ترقی نہ کر سکیں گے۔وہ ہمیں کہتے ہیں تم ہر بات پر یہ کہتے ہو کہ اس زمانہ کے مامور پر ایمان لائے بغیر کچھ نہیں ہو گا۔یہ ان کا ہم پر اعتراض ہوتا ہے مگر ہم پوچھتے ہیں۔