خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 193

193 جلا دینا چاہئے کیونکہ اس پر سینکڑوں مچھر ہوتے ہیں جو اس سے اڑ کر ادھر ادھر بکھریں گے اور پھر انسانوں پر بیٹھیں گے۔جس سے طاعون بڑھ جائے گی لیکن اگر چوہا وہیں جلا دیا جائے گا تو ایسے تمام مچھر بھی وہیں جل جائیں گے۔اور طاعون پھیلنے کا باعث نہ ہو سکیں گے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن لوگوں کے گھروں سے چوہے نکلتے ہیں وہ انہیں گلی میں پھینک دیتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بلا جو ایک پر پڑ سکتی تھی۔سب پر اس کے پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ایسے چوہوں کو اپنے گھروں سے باہر پھینک دینے کا یہ معنے نہیں کہ پھینکنے والے خود اس سے محفوظ ہو گئے یا یہ کہ ان کا گھر اب اس زہر سے خالی ہو گیا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ جو زہر پہلے اکیلے ان کے گھر میں تھا وہ اب محلہ بھر میں پھیل گیا۔اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ان کے ایسا کرنے سے ان کے گھر سے زہر نکل گیا تو کیا جب وہ زہر محلہ بھر میں پھیلنے لگے گا تو ان کا گھر محلہ سے باہر ہو جائے گا۔اور وہ اس میں نہ آئے گا۔یاد رکھو اگر تم اس طرح موت سے بچ بھی سکتے تب بھی اسلام تمھیں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ تم اپنی تو جان بچالو اور دوسرے بہت سارے لوگوں کی جانیں خطرہ میں ڈال دو۔اگر کوئی مر رہا ہوں تو کیا کسی کو مار کر بچ سکتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہو بھی تو بھی یہ جائز نہیں کہ دوسروں کو مار کر اپنی جان بچائے۔پس لوگوں کا چوہوں کو گلیوں میں پھینکنا یہی معنے رکھتا ہے کہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ موت میں ملانا چاہتے ہیں۔مگر میں ان سے کہتا ہوں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔اگر وہ ان کو جلا دیں تو گھر کا زہر بھی کم ہو جائے اور دوسرے لوگ بھی بچ جائیں۔پس یہ ایک ظالمانہ بات ہے کہ ہلاکت کو جانتے ہوئے ہلاکت میں پھنسا جائے۔اور نہ صرف خود ہی پھنسا جائے بلکہ دوسروں کو بھی پھنسایا جائے۔پس احباب کو چاہئے کہ وہ خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر کسی جگہ ایسا چوہا نکلے تو بجائے گلی میں پھینکنے کے مٹی کا تیل ڈال کر اسے وہیں جلا دیا جائے۔ایسے موقعوں پر تو یہ کرنا چاہئے کہ سب ردی چیزوں کو بھی جلا دیا جائے۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ پرانی پرانی چیزوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔مثلاً ایک ٹوکری ہے جو بالکل شکستہ ہے۔کسی کام نہیں آسکتی۔لیکن ایک شخص اسے بھی سنبھالتا ہے کہ یہ فلاں وقت کام آئے گی۔اب یا فلاں وقت وہ کام آئے گی یا وہ ہلاکت کا باعث بنے گی۔کیونکہ وہ دوسری ایسی ہی چیزوں میں اضافہ کا باعث ہوگی جو ردی ہوتی ہے۔اور جو اس قسم کے وبائی امراض کے پھیلنے کا باعث ہو جاتی ہے۔پس ایسی تمام ردیات کو جلا دینا چاہئے۔اور ان کا مطلقا لالچ نہیں کرنا چاہئے۔کئی سالوں کی بات ہے جب طاعون پڑی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام ردی اشیاء