خطبات محمود (جلد 10) — Page 170
170 وصیت کی اصل غرض اور ضرورت (فرموده ۱۴ مئی ۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : بعض امور بظاہر چھوٹے نظر آتے ہیں۔لیکن ان کے گرد و پیش ایسے حالات جمع ہو جاتے ہیں کہ ان حالات کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت پکڑ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت میں ایسے امور کی مثالوں میں سے ایک اہم مثال حصہ وصیت ہے۔اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے وہ تو سب باتوں کو جانتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب رسالہ الومینہ شائع کیا تو آپ کے ذہن میں وہ مشکلات نہ تھیں جو آئندہ زمانہ میں اس سلسلہ کے گرد جمع ہونے والی ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں وصیت عقلی طور بھی نجات کا ذریعہ ہے۔اگر وہ مشکلات نہ پیدا ہوتیں اور اس قسم کے حالات وصیت کے متعلق رونما نہ ہوتے تو خیال ہو سکتا تھا کہ وصیت سے جنت کا کیا تعلق؟ مگر اس کے گرد و پیش ایسی مشکلات جمع ہو گئی ہیں جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے قاعدہ کے ماتحت بتاتی ہیں کہ وہ اس امر کے گرد جمع ہوتی ہیں جو ہدایت کا باعث ہو۔دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے يضل به كثيرا " و يهدى به كثيرا " (البقرہ ۲۷) کہ جو چیز ہدایت دینے والی ہوتی ہے اس کے ذریعہ بہتوں کو ٹھو کر بھی لگتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم جب بہت بڑی ہدایت لے کر آیا تو اس وقت بڑی ضلالت بھی آئی۔توریت میں قرآن کریم کی نسبت ہدایت کم تھی اس وقت ٹھو کر بھی کم تھی۔رسول کریم ال چونکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا کے واسطے نبی بنا کر بھیجے گئے اور آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی نبوت کو منسوخ کر دے۔اس لئے آپ کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے کفر کا دروازہ بھی کھول دیا گیا۔اب موسوی شریعت کا انکار کفر نہیں کیونکہ اس کا زمانہ ختم ہو گیا مگر اس کا کمال بھی ختم ہو گیا اب کوئی شخص موسوی شریعت پر چل کر روحانی کمال حاصل نہیں کر سکتا۔