خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 158

158 سے ہے۔کوئی آدمی اپنے کام کے متعلق آپ رائے نہیں لگا سکتا۔اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں بھی اس کے وسیع کام کے متعلق فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔میرا کام تمام جماعت سے تعلق رکھتا ہے جو ایک جگہ نہیں ایک ملک میں نہیں بلکہ براعظموں میں پھیلی ہوئی ہے۔اس کا اندازہ نہ میں لگا سکتا ہوں اور نہ کوئی اور اس وقت لگا سکتا ہے۔اس کا اندازہ کئی نسلوں کے بعد قومیں کریں گی۔پھر اپنے کام کا اندازہ کوئی شخص آپ نہیں کر سکتا۔اور اگر کرے تو ہمیشہ غلط کرے گا کیونکہ وہ یا تو حد درجہ کے تکبر پر مبنی ہو گا یا انسان انکسار سے کام لے گا۔وہ یہ دیکھے گا کہ مجھے جس قدر طاقتیں ملی ہیں خدا کی طرف سے ملی ہیں۔میں نے خود کچھ نہیں کیا یا یہ دیکھے گا کہ اتنا بڑا کام تھا جس کے مقابلہ میں میں نے کچھ نہیں کیا اس لحاظ سے وہ اپنے کام کو بہت کم دیکھتا ہے۔تو میرے اپنے متعلق جو جماعت کی تعلیم و تربیت کا کام ہے۔اس پر میں رائے ظاہر نہیں کر سکتا۔اور جو باقی ایسے لوگ ہیں جن پر جماعت کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان کے کاموں پر میں رائے زنی تو نہیں کرتا مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ یہ بہت اہم کام ہے جس کی طرف میں جماعتوں کے امراء اور دوسرے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اس وقت چونکہ لاہور کی جماعت میرے سامنے ہے۔اس لئے لاہور کی جماعت کے امیر کی توجہ خاص طور پر جماعت کی اخلاقی اور روحانی اصلاح کی طرف دلاتا ہوں۔ان کی ذمہ داریاں بہت بڑھی ہوئی ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کلکم راع و كلم مسئول عن رعيته ا۔ہر شخص کی حیثیت چرواہے کی ہے اس سے پوچھا جائے گا کہ کس طرح اس نے ان لوگوں کی تربیت کی جو اس کے سپرد تھے۔پس میں اپنے عزیز دوست چودھری ظفر اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کا کام بہت اہم اور بہت ذمہ داری کا ہے۔دنیا کے سامنے انسان فریب سے بھی اپنی ذمہ داری سے بچ سکتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کو فریب نہیں دیا جا سکتا۔پھر دنیا کی ذمہ داری پوری نہ کرنے سے جو اثر پڑتا ہے وہ محدود ہوتا ہے۔اور اسے انسان برداشت کر سکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کا اثر اتنا زیادہ اور اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ اگر انسان غلط راستہ پر چلے تو اس کے اثر کا خیال کر کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر میں سکرٹریوں اور دوسرے کارکنوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنی اپنی جماعت کی صحیح تربیت نہ کریں گے اور لوگوں کو زمانہ کے سیلاب میں اسی طرح یہ جانے دیں گے جس طرح پانی میں تنکا بہتا ہے تو خدا تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیوں تم نے لوگوں کے متعلق کو تاہی اور سستی کی۔پھر