خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 153

153 اور کتابیں شائع کرتے ہیں۔لیکن کوئی انہیں پوچھتا بھی نہیں۔اس لئے کہ قبولیت کا زمانہ گذر گیا۔انبیاء عین وقت اور عین موسم میں آتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے عین وقت پر بھیجا تھا۔مگر آج آپ کی نقل کرنے والے بے موسم اور بے وقت کھڑے ہو رہے ہیں۔چونکہ یہ بات صرف خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ نبی کے بھیجنے کا عین وقت اور ٹھیک زمانہ کونسا ہوتا ہے۔اس لئے وہ نبی کو اس وقت بھیج دیتا ہے۔مگر جو خود بخود کھڑے ہو جاتے ہیں وہ بے وقت آتے ہیں اس لئے ناکام رہتے ہیں۔اور سوائے اس کے کہ ان ناپاک اور گندی بوٹیوں کی طرح جو کھیتوں میں صرف اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ انہیں تمازت آفتاب جلا دے ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔میں نے دیکھا ہے دو تین مدعی نبوت ٹریکٹ اور رسالے بھیجتے رہتے ہیں۔پھر گالیوں سے بھرا ہوا خط ان کی طرف سے آجاتا ہے کہ ہم نے اتنے رسالے اور ٹریکٹ بھیجے مگر کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔اپنے اخبارات میں گالیاں ہی دے چھوڑیں۔میں نے لکھایا گالیاں بھی یونہی نہیں ملتیں یہ بھی خدا کے فضل سے ملتی ہیں۔اب کہنے والے تو کہدیتے ہیں کہ محمد اے ایسے زمانہ میں آئے کہ لوگ آپ کی باتیں ماننے کے لئے تیار تھے۔یہ صحیح ہے کہ آپ ایسے زمانہ میں آئے جب لوگ آپ کی باتیں ماننے کے لئے تیار تھے مگر ایسے وقت میں آنا ہی بتاتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔کیونکہ خدا تعالیٰ ہی جان سکتا ہے کہ قبولیت کا زمانہ کونسا ہے۔ورنہ یوں تو لوگ گالیوں کے خواہشمند ہوتے ہیں وہ بھی انہیں نہیں ملتیں۔پس یہ خد تعالی ہی جانتا ہے کہ کونسی گھڑی۔کونسا گھنٹہ۔کونسا منٹ بلکہ کونسا سیکنڈ نبی کی بعثت کے لئے موزوں و مناسب ہے۔اس وقت وہ نبی کو بھیج دیتا ہے پھر اس کے بعد آنے والا کامیاب نہیں ہو سکتاک یہ چار باتیں کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔ہماری جماعت جس مقصد کو لے کر کھڑی ہوئی ہے وہ کامیابی کے لحاظ سے سب قوموں کے مقاصد سے بڑا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بعد کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے کسی نبی کے خیال میں بھی یہ نہیں آسکتا تھا کہ وہ اپنی تعلیم تمام دنیا میں منوا لیں گے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم ایک ایسی قوم ہے جس نے واقعات سے مجبور ہو کر ایسا طریق اختیار کیا جس سے خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ ان کا مذہب ساری دنیا کے لئے ہے۔حالانکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ مطلب اور یہ منشا نہ تھا کیونکہ وہ اپنی تعلیم ساری دنیا کو منوانے کے لئے نہ آئے تھے۔بہر حال عیسائیوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا مگر عیسائی صاحبان اس یقین کے ساتھ تو کھڑے ہوئے کہ حضرت عیسیٰ کی تعلیم ساری دنیا کے لئے ہے یا یوں