خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 137

137 میں اس قدر دولت ہوتے ہوئے ایسے قانون کی موجودگی میں شراب کا باہر سے پہنچانا دوسرے ممالک کے لوگوں کے لئے بہت مفید ہو سکتا ہے کیونکہ شراب بہت گراں قیمت پر فروخت ہو سکتی ہے۔اس وجہ سے یورپ کے لوگوں نے وہاں چوری چوری شراب پہنچانی شروع کر دی۔امریکہ کو اس کا علم ہوا۔تو اس نے پہرہ پر جہاز مقرر کر دیئے کہ شراب لانے والے جہازوں کو پکڑ لیا کریں۔اور اگر کوئی جہاز بھاگنا چاہے تو اس پر گولہ باری بھی کر دیں۔اس کے بعد ایک جہاز امریکہ کے ساحل پر پہنچا ہی تھا امریکہ کے پہرہ والے جہاز کے افسروں کو اس کی بعض حرکات کی وجہ سے شک گذرا کہ وہ ہمارے ملک میں شراب لانا چاہتا ہے۔اس پر انہوں نے جب جہاز کا پیچھا کیا تو اس نے اور بھی تیز حرکت شروع کر دی۔جس سے امریکن افسروں کو اور بھی یقین ہو گیا کہ ضرور اس کے اندر شراب ہو گی۔انہوں نے اس جہاز کو نوٹس دیا کہ ٹھہر جاؤ۔لیکن پھر بھی وہ نہ ٹھہرا۔بلکہ زیادہ تیزی سے چلنے لگا۔اس کے بعد امریکن افسروں نے نوٹس دیا کہ ٹھہر جاؤ ورنہ ہم گولہ باری شروع کر دیں گے۔اب جہاز والوں نے سمجھ لیا کہ اگر اس وقت ہم نہ ٹھہریں گے تو ضرور گولہ باری شروع ہو جائے گی۔اس خیال سے انہوں نے جھٹ جہاز کو ٹھرا لیا۔اور اپنا جھنڈا بلند کر دیا۔اب بحری قانون یہ ہے کہ جس جگہ سمندر میں کسی حکومت کا جہاز ہو وہ سمندر اسی حکومت کا سمجھا جاتا ہے۔اور اس جگہ حملہ کرنا گویا اس حکومت پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔اس قانون کے مطابق انگریزی جہاز نے جب اپنا جھنڈا کھڑا کر دیا تو اس کا یہ مطلب تھا کہ اس پر حملہ کرنا برطانیہ پر حملہ کرنا ہو گا اور کہہ دیا کہ یہ جھنڈا دیکھ لو اور اگر طاقت ہے تو گولہ باری کرو۔یہ دیکھ کر امریکن جنگی جہاز نے اس کا پیچھا چھوڑ دیا۔اور چپ چاپ واپس آگیا۔اس کی کیا وجہ تھی۔یہی تھی کہ امریکہ والوں نے سمجھا کہ اگر اس پر حملہ کیا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ انگریزوں کو لڑائی کا الٹی میٹم دے دیا۔اور اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ تھوڑی سی بات پر امریکہ انگلستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے گی۔جس میں قوم کی بیشمار دولت اور جانیں ضائع ہوں اور ملک کا امن برباد ہو جائے گا۔یہ انگلستان کی طاقت اور قوت کا خوف تھا۔اور یہ طاقت نتیجہ ہے انگلستان کے افراد کی ان قربانیوں کا جو انہوں نے اپنے ملک اور قوم کے لئے کیں۔انگلستان کے ساحل پر جنگی بیڑا ہر وقت تیار رہتا ہے۔اور کسی طاقت کی مجال نہیں کہ انگلستان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔اور اس سے مقابلہ کا خیال دل میں لائے۔ایک وقت تھا جب یہی انگلستان دنیا میں اسی طرح ذلیل سمجھا جاتا تھا جیسے آج ہندوستان سمجھا جاتا ہے۔اس پر غیر ملک کے لوگ حکومت کرتے رہے اور انگلستان کے لوگوں پر طرح طرح