خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 136

136 انگریز کی زیادتی پر اس کے خلاف دس ہندوستانیوں کی شہادت تھی۔لیکن باوجود ان ہندوستانیوں کی شہادت کے مجسٹریٹ نے لکھا کہ میں ان کے چہروں سے دیکھتا ہوں کہ جھوٹ بول رہے تھے۔اور میں انگریز کے مقابلہ میں ان کی شہادت کو کوئی وقعت نہیں دے سکتا۔یہ غیر منصفانہ رویہ اس نے کیوں اختیار کیا۔اسی لئے کہ اس انگریز کی قوم بادشاہ ہے۔لیکن ادھر ہندوستانی ہے جو اپنے گھر میں بے شک بڑا ہو تو ہو مگر جب گھر سے باہر اپنی گلی میں ہی قدم رکھے گا تو اس کی حیثیت ایک یورپین کے مقابلہ میں اتنی بھی نہیں ہو گی۔جتنی ایک جانور کی ہو سکتی ہے۔آج یورپ کا ایک معمولی سے معمولی باشندہ کل دنیا کے ہر گوشہ میں جہاں چاہیے جا سکتا ہے۔وہ افریقہ میں وہاں جا سکتا ہے۔جہاں بہت حد تک ایشیائی آباد ہیں۔وہ آسٹریلیا میں جا سکتا ہے۔جو ایشیا کا ہی حصہ ہے۔وہ سماٹرا اور جاوا میں جا سکتا ہے۔جہاں ایشیائی باشندے بستے ہیں۔لیکن ایک ہندوستانی کروڑ پتی بھی آسٹریلیا کی زمین پر قدم نہیں رکھ سکتا۔جب تک کہ وہ درخواست دیگر منظوری حاصل نہ کر لے۔اور وجہ نہ بتائے کہ کیوں جاتا ہے اور ساتھ ہی جب تک یہ بھی نہ بتائے کہ وہ۔کب تک اس ملک میں ٹھرے گا اور کب اپنے ناپاک وجود سے اس ملک کو خالی کر دے گا۔جاپانیوں کو بے شک ایک حد تک طاقت حاصل ہے۔لیکن وہ بھی بحیثیت قوم کے ایشیا ہی کا ایک حصہ ہیں۔اور ایشیا کی غریب برادری سے ہی ہیں۔اس لئے وہ تمام یورپ کے مقابلہ میں کیا کر سکتے ہیں۔اس لئے جاپان بھی یورپ کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔اور یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہے کہ جو قربانیاں یورپ نے کی ہیں وہ ایشیا والوں نے نہیں کیں۔آج اگر یہی ہندوستانی مالدار لوگ اپنی دولت کو قوم اور ملک کے لئے قربان کر دیں تو پھر دیکھو کس طرح تھوڑے سے عرصہ کے اندر ہندوستانی ترقی کر جاتے اور دنیا میں معزز سمجھے جاتے ہیں۔۔پچھلے دنوں ایک انگریزی اخبار میں میں نے ایک واقعہ پڑھا جس کے پڑھنے سے اس وقت بھی خون میں حرکت پیدا ہوئی اور اب بھی اس قدر جوش کی لہر اٹھتی ہے کہ سر سے پاؤں تک میرا جسم گرم ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جنگ کے بعد امریکہ والوں نے ملک میں شراب کی ممانعت کر دی تھی۔اور حکومت کے نزدیک قانونا شراب کا استعمال جرم قرار دیا گیا تھا۔لیکن امریکہ کے آزاد اور مالدار لوگ جو سینکڑوں سالوں سے شراب کے عادی چلے آتے ہیں۔اور پھر اس قدر مالدار ہیں کہ ان میں سے ایک ایک کے پاس کروڑوں نہیں اربوں روپیہ موجود ہے۔جہاں کا ایک معمولی مزدور بھی کئی سو روپیہ ماہوار کما لیتا ہے۔وہ شراب سے کہاں باز رہ سکتے ہیں ایسے ملک