خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 10

10 اس وقت میں سمجھتا ہوں یہ نظار، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ کے متعلق دیکھا اور جب میں یہ دیکھتا ہوں تو اپنے جذبات کو بہت روکتا ہوں کہ ظاہر نہ ہوں۔مگر اس سارے نظارہ کا مجھ پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور آنسوؤں کا تار بندھ گیا۔میں کچھ بیان کر کے ٹھہر جاتا ہوں۔اور رقت سے آگے نہیں بیان کر سکتا۔پھر خان صاحب کہتے ہیں۔آگے۔اور میں کچھ بیان کر کے رک جاتا ہوں۔اس وقت میں نے دیکھا۔ان کے قلب پر بھی اثر ہوا اور ان کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے اور ناک سے پانی بہنے لگا۔میں ان کو یہ نظارہ سناتا ہوں اور بتاتا ہوں دیکھو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوشش کی۔اور اس کا خاطر خواہ نتیجہ نہ دیکھا۔اور جب انسانی کوششیں کام نہ کر سکیں تو خدا نے یہ وعدہ دیا کہ وسیع مکانک۔ہم خود انتظام کریں گے کہ لوگ کثرت سے تمھارے پاس آئیں۔اس لئے اپنے مکان کو وسیع کرو۔میری اس وقت رقت کی حالت تھی کہ آنکھ کھل گئی اس کے متعلق میں نے سمجھا کہ اس رویا میں تین باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اور ایک نہایت لطیف پیرا یہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جماعت میں اختلافات کیونکر پیدا ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑے ہو بڑی بات یعنی اسلام کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس کی کیا حالت ہے یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اختلافات تب ہی پیدا ہوتے ہیں۔جب انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ اب میں امن میں ہو گیا ہوں۔ورنہ جب تک کسی انسان کے سامنے کوئی بڑا مقصد ہو جسے اس نے حاصل کرنا ہو اور وہ اپنے ارد گرد خطرات کو دیکھتا ہو۔اس وقت آپس میں لڑائی جھگڑا پیدا نہیں کرتا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسی وقت لڑتا ہے۔جب وہ سمجھتا ہے کہ اب میں امن میں ہوں اور اپنا کام کر چکا ہوں۔دیکھو مجلس وعظ میں بیٹھے ہوئے اگر ایک کا پاؤں دوسرے پر جا پڑے یا ایک کی کہنی دوسرے کو لگ جائے تو چلا اٹھتا ہے کہ دیکھتا نہیں۔لیکن اگر کسی گھر میں آگ لگی ہو اور پچاس ساٹھ آدمی اس کے اندر ہوں جن کے باہر نکلنے کے لئے ایک ہی دروازہ ہو تو اس وقت کئی ایک کو دھکے بھی لگیں گے۔چوٹیں بھی آئیں گی۔مگر کوئی شکایت کرنے نہیں بیٹھ جائے گا۔اس لئے کہ وہاں بڑا خطرہ سامنے ہے جو سب پر حملہ کر رہا ہے اور ان میں یہ احساس ہے کہ ہم بڑی تکلیف میں پڑ جائیں گے اس وجہ سے وہ اس وقت چھوٹی تکلیفوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس حالت نے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے اختلافات اور جھگڑوں کا باعث یہی ہوتا ہے کہ یہ مقصد وحید کہ ہم نے ساری دنیا کو فتح کرتا ہے، ہمارے سامنے