خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 135

135 بے شک اگر قومیت دنیا میں کوئی چیز نہ ہوتی اور محض انسانیت ہی انسانیت ہوتی۔تو پھر یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا۔لیکن دنیا میں تو انسان کو صرف اپنی ذات سے ہی واسطہ نہیں پڑتا۔بلکہ بیرونی دنیا سے بھی اس کو واسطہ پڑتا ہے۔دنیا میں ہر شخص اگر یہی خیال کرے کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں قربانی کروں۔تو ایک دم تمام دنیا تباہ ہو سکتی ہے۔مثلاً اگر یہی خیال ماں کے دل میں آجائے کہ میں کیوں اپنے بچہ کو دودھ پلا کر اپنا خون خشک کرتی پھروں۔مجھے اس سے کیا فائدہ ہو گا۔باپ خیال کرے کہ میں کیوں اپنے گاڑھے پسینہ کی کمائی بچوں پر خرچ کروں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ تکلیف اٹھا کر بچوں کی پرورش کروں۔مجھے کیا فائدہ پہنچے گا۔تو کیا اس خیال کے نتیجہ میں وہ خاندان ترقی کرے گا یا تباہ ہو گا ضرور وہ خاندان تباہ ہو جائے گا در حقیقت دنیا میں بحیثیت اپنی ذات کے کوئی چیز نہیں زندہ رہ سکتی۔بلکہ ایک دوسرے کی قربانی کے نتیجہ میں زندہ رہتی ہے۔دیکھو آج ہندوستان میں کئی ایسے مالدار لوگ موجود ہیں۔جن کے پاس کروڑہا روپیہ ہے۔۔اور یورپ کے ہزارہا لوگ ان کے مقابلہ میں کنگال کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ہندوستان کے بعض دولتمند ہزاروں یورپین کو اپنے ہاں ملازم رکھ سکتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ایک یورپین کنگال تو دنیا کے ہر کونہ میں عزت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔اور دنیا میں کوئی نہیں جو اس کی طرف انگلی بھی اٹھا سکے۔لیکن ہندوستانی کروڑ پتی بھی ہر جگہ ذلیل سمجھا جاتا ہے۔اس کا کیا باعث ہے۔اس کا یہی باعث ہے کہ اس کنگال یورپین کی قوم ایک زبردست قوم ہے۔اور اس مالدار ہندوستانی کی قوم نہایت ذلیل اور کمزور قوم ہے۔پھر دوسرے ممالک کی بات تو الگ رہی۔ہندوستان میں ہی دیکھو۔کس طرح ایک ہندوستانی یورپین کی گاڑی میں بیٹھنے سے ڈرتا ہے۔ایک بڑے سے بڑا معزز ہندوستانی گاڑی میں ذرا ایک انگریز کی آنکھوں میں سرخی اور غضب کو دیکھتا ہے تو گاڑی میں بیٹھنے سے خوف کھاتا ہے۔کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ ایک ہندوستانی اپنے ہی ملک میں جہاں اس کے آباؤ اجداد کی ہڈیاں مدفون ہیں جہاں کے گیہوں کے اندر اس کے آباء و اجداد کا خون ملا ہوا ہے۔جہاں ہزاروں خاندانوں کی ہڈیاں ذرات اور کھاد بن کر گیہوں کی شکل اختیار کرتی اور اس سے ہندوستانیوں کا گوشت اور پوست تیار ہوتا اور اسی طرح اس ملک کی ایک ایک چیز اس کے خون سے سیراب شدہ ہے۔اس ملک میں جو اس کا اپنا ملک کہلاتا ہے۔اسے اتنی بھی تو جرأت نہیں ہو سکتی کہ اس گاڑی کی طرف نظر اٹھا سکے جس میں ایک یورپین بیٹھا ہوا ہو۔پچھلے ہی دنوں کا ایک واقعہ ہے کہ گاڑی میں ایک