خطبات محمود (جلد 10) — Page 107
107 ہے وہ پھر تنزل کی طرف نہیں جاسکتا۔فرمایا تم اپنے آپ کو ابھی مومن نہ کہو۔ہاں مسلم کہو۔کیونکہ تمہارے اعمال میں وہ پختگی پیدا نہیں ہوئی۔جو مومن کے اعمال کے لئے ضروری ہے۔اور جس کے بعد ان میں کمی نہیں آسکتی۔میں اپنے دوستوں کو اس آیت کی طرف توجہ دلاتا ہوں آج کل رمضان کے دن ہیں۔اور خصوصیت سے برکات حاصل کرنے کے دن ہیں ان میں سچے مومن بننے کی کوشش کرو۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو کچھ دین کی خدمت کر کے پھر سست ہو جاتے ہیں۔مگر اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ مومن کبھی سمت نہیں ہوتا۔اور جس کے اندر ستی پیدا ہو وہ اپنے آپ کو مسلم کہہ سکتا ہے۔مومن نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مومن کی یہ علامت ہے کہ لا يلتكم من اعمالكم شيئا " اگر تم مومن ہو گے تو تمہارے اعمال میں کبھی کمی نہ ہونے دی جائے گی۔یہ معنی اس آیت کے ہر گز نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ مومنوں کے اعمال ضائع نہ کرے گا۔اور ان کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔کیونکہ یہ تو خدا نے کافروں کے متعلق بھی فرمایا ہے فمن يعمل مثقال ذرة خيرا " یرہ کہ کسی کی رائی کے برابر نیکی بھی ضائع نہ کی جائے گی۔اب کونسا مومن ہو گا جو رائی کے برابر بھی نیکی نہ رکھتا ہو۔مومن تو الگ رہا کوئی خطرناک سے خطرناک کافر اور آریہ بھی ایسا نہ ہو گا۔جس نے رائی کے برابر بھی کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔اس کی بھی یہ نیکی ضائع نہ جائے گی۔پھر اگر کوئی ایسا انسان فرض بھی کر لیا جائے۔جس کی نیکی رائی کے دانہ کے برابر ہو۔حالانکہ ہر انسان کی نیکی اس سے زیادہ ہی ہو گی۔تو جس طرح اگر اور سب قسم کے دانے دنیا سے تباہ ہو جائیں اور صرف رائی کا ایک دانہ رہے۔تو وہی بڑھتے بڑھتے اس قدر بڑھ جائے گا کہ ساری دنیا پر رائی ہی رائی پھیل جائے گی۔اسی طرح وہ نیک عمل جو رائی کے دانہ کے برابر ہو گا۔وہ کیوں ترقی نہ کرے گا۔وہ بھی ضرور بڑھے گا۔پس یہ بات کہ خدا تعالیٰ کسی کے نیک عمل کو ضائع نہ کریگا یہ تو کافروں کے متعلق بھی ہے پھر یہ کیوں فرمایا وان تطيعوا الله و رسوله لا يلتكم من اعمالكم شینا " اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے۔تو تمہارے اعمال میں کمی نہ کی جائے گی۔اس سے معلوم ہوا۔یہاں اعمال کو ضائع کرنے سے کوئی اور مراد ہے۔اور وہ یہ کہ اعراب کو بتایا ہے۔آج جو تم نمازیں پڑھنے میں چست ہو ایک وقت آئے گا۔جب ان میں سست ہو جاؤ گے۔آج جو زکوۃ دینے میں چست ہو۔دوسرے وقت میں سست ہو جاؤ گے۔اسی طرح آج جو اعمال بڑی چستی سے کرتے ہو۔کچھ عرصہ کے بعد ان میں۔ست ہو جاؤ گے۔پس یہاں اعمال کا ضائع ہونا مراد نہیں۔بلکہ خود اعمال میں کمی ہونا مراد ہے۔جس