خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 703

خطبات نور — Page 84

جنوری ۱۹۰۲ء 84 خطبہ عید الفطر وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوحًا إِلى قَوْمِهِ فَقَالَ يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِّنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ (المومنون (۲۴) کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔یہ آیتیں جو میں نے تم کو سنائی ہیں یہ اس شخص کا قصہ ہے جو دنیا میں اصلاح الناس کے لئے بھیجا گیا تھا۔اس کا نام نوح ہے، علیہ الصلوۃ والسلام۔وہ ایک پہلا انسان ہے جو لوگوں کو آگاہ اور بیدار کرنے کے واسطے غفلت کے زمانہ میں آیا تھا۔وہ ایک خطرناک ظلمت اور تاریکی کے دنوں میں نور اور ہدایت لے کر آیا تھا۔یہ اسٹوریاں کہانیاں اور دل خوشکن قصے نہیں بلکہ عِبرَةٌ لا ولِي الْأَبْصَارِ صداقتیں ہیں ان اہل نظر کے لئے جن میں تذکرہ کا مادہ ہوتا ہے، جو فہم و فراست سے حصہ رکھتے ہیں۔ان قصص میں بڑے بڑے مفید اور سود مند نصائح ہوتے ہیں۔میں نے بجائے خود ان قصص سے بہت بڑا ذاکرہ اٹھایا ہے۔ان میں یہ عظیم الشان (امور) قابل غور ہیں۔اول : کسی مامور من اللہ کی کیونکر شناخت کر سکتے ہیں ؟ دوم : مامور من اللہ کیا پیش کرتے ہیں یا یوں کہو کہ وہ کیا تعلیم لے کر آتے ہیں یا یہ کہو کہ وہ خدا تعالی