خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 647 of 703

خطبات نور — Page 647

۱۲ دسمبر ۱۹۱۳ء 647 خطبہ جمعہ تشہد و تعوذ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی۔وَ لَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَ اَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ اَ فَكُلَّمَا جَاءَ كُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ (البقرة: ۸۸)۔اور پھر فرمایا:۔کیسا اللہ کا فضل اور اس کا رحم اور اس کی غریب نوازی ہے کہ ہمیشہ اپنا پاک کلام ہماری تہذیب کے لئے بھیجتا رہتا ہے۔اگر کسی آدمی کے نام وائسرے یا حاکم یا کسی امیر کا خط آجائے تو وہ اس سے بڑا خوش ہوتا ہے اور اس کی تعمیل کو بہت ضروری سمجھتا ہے اور اس کی تعمیل کرتا ہے۔مگر قرآن کریم جو رب العالمین اور تمام جہان کے مالک و خالق کا حکم نامہ ہے اس کی لوگ پرواہ نہیں کرتے اور ہمیشہ اس