خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 622 of 703

خطبات نور — Page 622

622۔مجھے تم سے محبت ہے۔نہ میں تمہارے سلام کا محتاج نہ تمہارے اٹھنے بیٹھنے کا اور نہ تمہاری نذرو نیاز کا محتاج ہوں۔میں تم سے کچھ نہیں چاہتا۔صرف تمہاری بہتری چاہتا ہوں۔تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ سوائے امام کے ترقی نہیں ہوتی۔انگریزوں کی چھوٹی چھوٹی مجلسوں کے بھی پریذیڈنٹ ہوتے ہیں۔مسلمان قوم آگاہ رہے کہ سوائے امام کے ترقی نہیں ہو سکتی۔کسی نے کہا آجکل جہاد ہوتا ہے۔میں نے کہا کہیں نہیں ہوتا۔جہاد یہ ہے کہ ان کا امام ہو اور وہ حکم دے۔اس کے ماتحت کام کریں۔آجکل عام مسلمانوں میں کوئی امام نہیں۔نہ ایران نہ چین نہ مرا کو نہ لڑکی نے ترقی کی۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں۔اللہ رسول، فرشتوں کو گواہ کر کے تمہاری بھلائی کے لئے کہتا ہوں۔وہم بھی نہ کرنا۔نہ کسی طمع و غرض کے لئے کہتا ہوں ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے۔یہاں کے بعض رہنے والے باہر کے آنے والوں کے کانوں میں باتیں بھرتے ہیں کہ ہماری جماعت میں اختلاف ہے۔کوئی موجود خلیفہ کے بعد کسی کو تجویز کرتا ہے اور کوئی کسی کو۔ان بے حیاؤں کو شرم نہیں آتی کہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ان کو کیا خبر ہے کون خلیفہ ہو گا؟ ممکن ہے ہمارے بعد بہتر خلیفہ ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی کیسی کیسی تائید کرے۔جب تم اس قدر بے علم ہو تو ایسی ایسی باتیں کیوں کیا کرتے ہو۔کیا تمہارا انتخاب کردہ منتخب ہو گا؟ کیا موجودہ خلیفہ تمہارے انتخاب سے خلیفہ ہوا ہے کہ وہ تمہارے انتخاب سے ہو گا؟ یہ کام تمہارا نہیں۔خدا کا کام خدا کے سپرد کرو۔یونسی نفاق ڈالنے کے لئے کانوں میں کر کر کرتے ہو۔میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم کو اس کا وبال نہ بھگتنا پڑے۔تم میں ایک امام ہے۔اس کا نام نورالدین ہے۔کیا تم اس کی حیاتی کے ذمہ دار ہو ؟ پیش از مرگ واویلا کرتے ہو۔اگر تم حیادار ہو تو ایسی باتیں کبھی نہ کرو۔تم میں بدظنی ہے۔خواجہ کمال الدین منافقانہ کام نہیں کرتا۔صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کرتا ہے۔یہ میرا یقین اس کی نسبت ہے۔ہاں معلوم نہیں غلطیاں کر سکتا ہے۔میں اس کے کاموں سے خوش ہوں۔اس کے کاموں میں برکت ہے۔اس کی نسبت بدظنیاں پھیلانے والے منافق ہیں۔میرے اور میاں صاحب کے درمیان کوئی نقار نہیں۔جو ایسا کہتا ہے وہ بھی منافق ہے۔وہ میرے بڑے فرمانبردار ہیں۔انہوں نے مجھ کو فرمانبرداری کا بہتر سے بہتر نمونہ دکھایا ہے۔وہ میرے سامنے اونچی آواز بھی نہیں نکال سکتے۔انہوں نے فرمانبرداری میں کمال کیا ہے۔میرے اور ان کے درمیان کوئی مخالفت نہیں۔میں نے امام بننے کی کبھی خواہش تک نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے تم سب کو گردنوں سے پکڑ کر میرے آگے جھکا دیا۔دیر کی بات ہے میں نے ایک رویاء دیکھی تھی کہ میں کرشن بن گیا۔اس کا نتیجہ اس وقت میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔یہ مطلب ہے ذَالِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوا يَعْتَدُونَ (البقرة:٣) کا۔پہلے انسان ادنی نافرمانی کرتا ہے پھر ترقی کرتا کر تا حد