خطبات نور — Page 617
۰ار اکتوبر ۱۹۱۳ء 617 خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے آیت قرآنی وَإِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّحَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:۵۵) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہر شریف الطبع آدمی دوسرے کو کسی مصیبت میں مبتلا پا کر عبرت پکڑتا ہے۔شریف مزاج لڑکوں کو جب ہم نصیحت کرتے ہیں تو کسی اور کا حوالہ دیتے ہیں کہ فلاں نے ایسا کام کیا تو یہ سزا پائی۔اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ ہر ایک شریف انسان دوسرے سے عبرت پکڑتا ہے۔ہم کس قدر دکھیاروں کو دیکھتے ہیں تو قرآن کریم کے مطابق مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (الشوری (۳) ہر ایک کو اپنے کئے ہوئے کی سزا ملتی ہے۔جو کچھ تم کو مصیبت آئی، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تم کو ملی۔میں نے کبھی کسی مومن کو نمبر دس (۱۰) کا بد معاش نہیں دیکھا نہ ہی نیک اعمال والے کو آتشک کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔اسی طرح ہر قسم کی بیماریوں اور مصیبتوں کا یہی حال ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ایک استاد صاحب سے ایک جذامی علاج کروایا کرتا تھا۔اس کی تنخواہ