خطبات نور — Page 52
52 سے اس طرح پر تقویٰ حاصل ہوتا ہے تو ان کے دلوں میں ایک فکر اور جوش پیدا ہوا کہ دوسرے مہینوں کے بھی فضائل اور حقائق سے واقف ہوں۔اس لئے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔رمضان میں تقویٰ کا سبق یوں ملتا ہے۔سخت سے سخت ضرور تیں بھی جو بقائے نفس اور بقائے نسل کے لئے ضروری ہیں ان کو بھی روکنا پڑتا ہے۔بقائے نفس کے لئے کھانا پینا ضروری چیز ہیں اور بقائے نسل کے لئے بیوی سے تعلق ایک ضروری شے ہے مگر رمضان میں کچھ عرصہ کے لئے یعنی دن بھر ان ضرورتوں کو خدا کی رضامندی کی خاطر چھوڑنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ سبق سکھایا ہے کہ جب انسان بڑی ضروری خواہشوں اور ضرورتوں کو ترک کرنے کا عادی ہو گا تو غیر ضروری کے چھوڑنے میں اس کو کیسی سہولت ہوگی۔دیکھو ایک شخص کے گھر میں تازہ دودھ ٹھنڈے شربت، انگور‘ نارنگیاں موجود ہیں۔پیاس کے سبب سے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں۔کوئی روکنے والا نہیں۔باوجود سہولت اور ضرورت کے اس لئے ارتکاب نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم ناراض نہ ہو جائے اور اسی طرح عمدہ عمدہ کھانے پلاؤ کباب اور دوسری نعمتیں میسر ہیں اور بھوک سے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں اور پھر کوئی نہیں جو ان کھانوں سے روکنے والا ہو مگر یہ اس لئے استعمال نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔جبکہ یہ حال ہے کہ ایسی حالت اور صورت میں کہ اس کو عمدہ سے عمدہ نعمتیں جو اس کے بقائے نفس کے لئے اشد ضروری ہیں، یہ صرف مولیٰ کریم کے حکم کی رضامندی کی خاطر ان کو چھوڑتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ چھوڑ سکتا ہے تو بھلا ایسا انسان جو خدا کے لئے ضروری چیزیں چھوڑ سکتا ہے وہ شراب کیوں پینے لگا اور خنزیر کیوں کھانے لگا؟ جس کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہے یا مثلاً کوئی رشوت خور ربوخوری کرنے والا یا چور یا ایسا انسان جو قرض لیتا ہے کہ ادا کرنے کی نیت نہیں ہے جبکہ دیانت داری سے کام لیتا ہے اور مولیٰ کریم کی اجازت اور پروانگی کے سوا کچھ نہیں کرتا وہ ایسے خبیث مال کے لینے میں کیوں جرات کرے گا؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح گھر میں حسین جوان بیوی موجود ہے مگر اللہ ہی کی رضا کے لئے تھیں دن چھوڑ سکتا ہے تو بد نظری کے لئے جی کیوں للچائے گا۔غرض رمضان شریف ایک ایسا مہینہ تھا جو انسان کو تقوی، طہارت، خدا ترسی، صبر و استقلال‘ اپنی خواہشوں پر غلبہ فتح مندی کی تعلیم عملی طور پر دیتا تھا۔ان ترقیوں کو دیکھ کر جو صحابہ نے رمضان میں تقویٰ میں کی تھیں، انھوں نے دوسرے مہینوں کے فضائل و فوائد سننے کی خواہش ظاہر کی اور سوال کیا۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب یوں دیا۔قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ