خطبات نور — Page 592
592 نے غضب ڈھایا ہے کہ وہ عمل کو جزو ایمان نہیں مانتے۔وہ کہتے ہیں عمل ہو یا نہ ہو عقیدہ تو اچھا ہے۔بعض لوگوں نے تو یہاں تک اس میں غلو کر لیا ہے کہ وہ دعوی ایمان بالله و بالآخرہ کا کرتے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہوتے۔"" کے بعد جو "ب" آئے تو معنے بالکل کے ہوتے ہیں۔یعنی بالکل مومن نہیں۔اب تم اپنی اپنی جگہ غور کرو کہ تمہارے اس دعوے کے ساتھ کہ ہم مومن ہیں، ہم احمدی ہیں ، ہم مرزائی ہیں، دلائل کیا ہیں؟ ایسا نہ ہو کہ تم کہو۔امَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ (البقرة) اور خدا تعالیٰ فرمائے۔وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (القبرة:٩) - دیکھو! ایسے لوگوں کے لئے فرماتا ہے کہ ان کے افعال کو دیکھیں تو اللہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔کہیں مخلوق کا لحاظ ہے، کہیں رسم و عادت کا کہیں دم نقد فائدے کا۔مگر انہوں نے اللہ کو کیا چھوڑنا ہے اپنے تئیں محروم کیا ہے۔فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (ال عمران (۹۸) اور اس کا وبال ان کی اپنی جان پر ہے۔ہمارے نبی نے تو تصدیق کو بھی اعمال سے گنا ہے۔فرمایا النَّفْسُ تَمَتَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ (بخاری۔کتاب القدر) انسان کا نفس کچھ خواہشیں کرتا ہے جن کا علم کسی کو نہیں ہوتا اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے۔گویا عمل کا نام بھی تصدیق ہے۔غرض اعمال ایمان کا جزو ہیں۔فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ صرف زبانی دعویٰ کرنے والوں کے دلوں میں، جنہیں نہ قوت فیصلہ نہ تاب مقابلہ مرض ہے۔اللہ اس مرض کو بڑھائے گا اس طرح پر کہ جوں جوں اسلام کے مسئلے بڑھیں گے ان کے دل میں شبہات بڑھیں گے یا یہ عملی طور پر انکار کریں گے۔پھر یہ چھوٹی سی جماعت کے مقابل میں گیدی ہیں تو بڑوں کے سامنے کیا کچھ بزدلی نہ دکھائیں گے یا تھوڑے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو بہت سے مسائل کا فیصلہ کیا کریں گے؟ چونکہ انہوں نے جھوٹا دعویٰ ایمان کا کیا اس لئے ان کو دکھ دینے والا عذاب ہے۔ایسی مخلوق کو جب واعظ وعظ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو کام تم کرتے ہو اس کا نتیجہ خطرناک ہے، تم دنیا میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تو بہ ہم فسادی ہیں ؟ ہم تو با مسلمان اللہ اللہ با برہمن رام رام" کے اصل پر چل کر سب کے ساتھ اپنا تعلق رکھتے ہیں اور بڑی سنوار والے ہیں۔اللہ فرماتا ہے أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ (البقرة: ۱۳) کہیں بڑے مفسد لوگ ہیں کہ دعوے زبان سے کچھ ہیں، ہاتھ سے کچھ کرتے ہیں۔ایک نماز ایسی چیز ہے کہ کلمہ شہادت کے بعد کوئی عمل نماز کے برابر نہیں۔حضرت نبی کریم نے فرمایا۔میرا جی چاہتا ہے کہ جب تکبیر ہو جائے تو میں دیکھوں کون کون جماعت میں نہیں آیا اور ان کے