خطبات نور — Page 588
خطبات نوب 588 اس قرآن کے بارے میں فرماتا ہے کہ سنو! میں اللہ علم والا ہوں۔یہ وہ کتاب ہے جس میں ہلاکت کی راہ نہیں۔کتاب کے لفظ پر علم اشتقاق میں بڑی بحث ہے۔چھ لفظ جو اس مادہ سے مشتق ہیں ان میں جمعیت کے معنے پائے جاتے ہیں۔کتیبه لشکر کو کہتے ہیں۔پس یہ کتاب ہزا ر ہا شبہات کے مقابلہ کے لئے کافی ہے۔کیا ہی پاک روح تھی وہ جس کے منہ سے نکلا حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ۔اس فقرے پر ایک قوم رنجیدہ ہے۔اس کے ایک فرد نے مجھ پر بھی اعتراض کیا تو میں نے اس سے پوچھا آپ حَسْبُنَا کے کیا معنی کرتے ہیں؟ اس نے کہا كَافِيكَ۔میں نے کہا یہ تو قرآن مجید ہی کا قول ہے۔وہ فرماتا ہے اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُعْمِنُونَ (العنکبوت:۵۲) کیا ان کے لئے یہ کتاب کافی نہیں جو ہم نے ان پر اتاری۔یہی حضرت عمر نے کہا۔ذلِكَ الْكِتَابُ سے ظاہر ہے کہ یہی ایک کتاب ہے اور کوئی ہے ہی نہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک ادب کیا ہے کہ اپنی آنکھ سے کوئی کتاب دیکھی ہی نہیں۔ہاں ایک دفعہ موقع فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا (ال عمران:۹۴) سے نکلا تھا مگر تو رات بھی آپ کے سامنے کوئی نہ لایا۔ریب کے معنے شک اور ہلاکت کے ہیں۔ہلاکت کی کوئی تعلیم قرآن کریم میں نہیں جس سے انسان کا دین و دنیا تباہ ہو جائے۔ایسا ہی شک کی کوئی بات نہیں۔شک اگر ہو گا تو اس شخص کے دل میں ہو گا جو قرآن کا مخالف ہے۔غرض قرآن میں کوئی شک نہیں۔پھر اس کو اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا (البقرة :۲۴) میں کھول دیا ہے۔یہ کتاب ہر ایک قوم کے لئے جو متقی ہو چکی ہے یا ہو گی یا اس وقت ہے، ہدایت نامہ ہے۔اس کے مبادی میں ایمان بالغیب شرط ہے۔کیونکہ دنیا میں بھی جس قدر علم صحیح ہیں سب کا مدار فرض یا غیب پر۔علم ہندسہ ہے۔اس میں جمع اور تفریق ہی ہے کیونکہ ضرب کیا ہے؟ امثال کی جمع۔تقسیم کیا ہے؟ امثال کی تفریق۔اور اس جمع تفریق کی بنا فرض ہے۔چار روپے دس آنہ۔دو ہزار پانچ روپے دو پائی۔غرض کوئی روپیہ ہو وہ اس وقت کہاں ہوتا ہے۔فرضی طور پر جمع یا تفریق کیا جائے گا۔اسی طرح علم مساحت، انجنیر نگ، ڈاکٹری، تجارت، زراعت میں پہلے ایمان بالغیب ہی ہوتا ہے۔کاشتکار بیج کو زمین میں سپرد خاک کرتا ہے۔اسے کیا معلوم کہ یہ بیج کیسا ہو گا اور کتنا پھل لائے گا؟ پولیس بھی ایماندار ہو تو اپنی کارروائی پہلے غیب پر شروع کرے گی پھر صحیح نتیجہ پر پہنچے گی۔اسی طرح ایک مہندی پہلے اللہ پر ملائکہ پر کتب پر حشر و نشر پر ایمان بالغیب لائے گا پھر اس کتاب کے ذریعہ ہدایت پاکر وہ ان سب کا علم الیقین حاصل کر لے گا۔مگر یہ ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو دعامانگنے کا عادی ہو۔صدقہ و خیرات ہے۔