خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 589 of 703

خطبات نور — Page 589

کرتا ہو۔589 صدقہ و خیرات کی ترغیب کے لئے کیا عمدہ فرمایا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ (البقرۃ:۳) کہ جس چیز سے خرچ کے لیے کچھ ارشاد کرتے ہیں، وہ تمہاری نہیں بلکہ ہماری دی ہوئی ہے۔پھر سب نہیں مانگتے بلکہ اس میں سے کچھ۔پھر یہ رزق عام ہے ، صرف مال مراد نہیں۔جو لوگ ان نیکیوں میں بڑھتے بڑھتے پہلی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ تیرے پر نازل ہوا اسے مانتے ہیں اور اس کے بعد جو وحی ہو اس پر بھی ایمان لانے کو تیار ہیں وہ ہدایت پر گویا سوار ہیں۔کفر گیرد کاملے ملت شود۔دیکھو مکہ کی طرف سجدہ دین بن گیا کیونکہ یہ ایک کامل کا فعل ہے۔برخلاف اس کے جو یکدم انکار ہی کر بیٹھے۔اور ان کا حال جملہ معترضہ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ (البقرة (4) میں بتا دیا کہ ان کے لیے انذار اور عدم انذار مساوی ہے یعنی حق کی پرواہی نہیں۔وہ نہ حق بات سنتے ہیں ، نہ حق دیکھتے ہیں، نہ اس پر غور کرتے ہیں۔اسی سزا میں ان پر مہرلگادی گئی۔”آپنے را که زنگ خورد از مصقله صاف نہ گردد۔یہ فتویٰ لا يُؤْمِنُونَ (البقرة:6) سب کے حق میں نہیں۔اس لئے یہ اعتراض صحیح نہیں کہ پھر بعض کافران میں سے مسلمان کیوں ہو گئے؟ چنانچہ سورۃ یس میں فرمایا۔لَقَدْ حَقِّ الْقَوْلُ عَلَى أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (يس:۸) یعنی اکثر پر ایسا فتوی لگتا ہے جس کی وجہ بھی بتادی کہ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔ہدایت تو وہ پاتے ہیں جن میں ایمان بالغیب صدقہ و خیرات اور حق کی شنوائی حق کی بینائی ہو۔إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ (يس:) الفضل جلد نمبر۷ ۳۰۰۰۰۰ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵) ⭑-⭑-⭑-⭑