خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 703

خطبات نور — Page 42

4۔2 اور ہاں یہی ایک مجرب نسخہ ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت کی جاوے اور صلاح و تقویٰ جو اس اطاعت کی غایت اور منشاء ہے اپنا شعار بنا لیا جاوے۔پھر خدا تعالیٰ کا وعدہ صادق ہے که يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۴)۔بے شک! بے شک !! یہ سچی بات ہے کہ ممکن نہیں رحمت کی اطاعت میں زحمت آئے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کامل اطاعت کرو کہ اس سے تمام نحوستیں اور ہر قسم کے حزن و ہموم دور ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ صلاح و تقویٰ کے اختیار کرنے والے کا متولی حافظ و ناصر خود د۔ولی کریم ہو جاتا ہے۔ہاں متقی بنو۔اس کے فرماں بردار اور صالح بندے بنو۔پھر وعدہ کی زمین وہ شام کی زمین ہو یا کوئی اور وہ مومنوں کا حق ہے اور وہی اس کے حقیقی وارث ہیں۔مسلمانوں کے ادبار اور نکبت پر بہت سی رائے زنیاں کرتے ہیں لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو کھول کر کہتا ہوں کہ یہ ساری ذلتیں اور نحوستیں جو مسلمانوں پر آئی ہیں یہ خلاف سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا ہوئی ہیں۔رحمت سے جس قدر کوئی دور ہو تا جاوے گا ذلت اور زحمت اس کے شامل حال ہوتی جاوے گی۔پس متقی بنو کہ ہر تنگی اور ہر قسم کی سختی سے نجات ملنے کا ذریعہ تقویٰ اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتا ہے۔وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: (۳) جو اللہ تعالیٰ کا متقی ہوتا ہے اس کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے۔تقویٰ اللہ کیا ہے؟ متقی کے ہر قول اور فعل اور اس کی ہر حس و حرکت میں اللہ کا خوف اور اس کی صفات کا دیا ہوتا ہے۔کبھی اس کی صفت علیم خبیر بصیر سے ڈرتا ہے، کبھی اعلم بما في الصُّدُورِ کو دیکھ کر گندے اور ناپاک منصوبوں سے پر ہیز کرتا ہے۔غرض جس قدر اللہ تعالیٰ کی صفات کی حیا ہو اسی قدر تقوی اللہ کی راہوں پر چلنے کی توفیق ملتی ہے اور اسی نسبت سے خدا اس کا متولی ہو جاتا ہے۔متقی کو بڑی بات یہ میسر آتی ہے کہ کسی دکھ کے وقت جب کہ ہر طرف سے وحشت پر وحشت اور تاریکی پر تاریکی نظر آتی ہو اسے کسی قسم کی گھبراہٹ اور بے دلی آکر نہیں ستاتی۔اس کو کامل یقین ہوتا ہے کہ خدا نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور ضرور کر دیتا ہے۔میں نے خود آزما کر اور تجربہ کر کے بارہا دیکھا ہے کہ خدا نے کس کس طرح پر مخرج عطا کیا ہے۔خدا کے بڑے بڑے راستبازوں، صدیقوں اور متقیوں کے تجربے اور شہادتیں موجود ہیں۔کوئی بڑے سے بڑا دنیادار جس کو ہر قسم کی آسائشیں اور راحتیں میسر ہوں کبھی بھی سچا اطمینان اور حقیقی راحت حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدائے عظیم کا تکیہ اور سمارا نہ ہو۔فطرت انسانی ایک تکیہ چاہتی ہے۔دیکھو کوئی