خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 420 of 703

خطبات نور — Page 420

420 وزیر ہو سکتا ہے؟ ہم نے آگوں کو دبا کر بھی بجھاتے دیکھا ہے۔میری ماں دھکتے ہوئے کوئلے ایک گڑھے میں ڈال کر بند کر دیتی تھی۔تھوڑی دیر میں سب بجھ جاتے۔دیکھو! میں نے پانی کے لحاظ سے تو وعظ کیا ہے اور دبانے کے لئے کوشش میں ہوں۔ہم اور تم سب مر جائیں گے۔اگر کچھ نقار ہم میں باقی ہیں تو چھلی قوموں میں تفرقہ پڑ جائے گا اور وہ ہم پر لعنتیں کریں گی۔مجھے کہیں گے کہ کس خبیث نے یہ گندا بیج بو دیا۔دیکھو تم میرے حق کو بجالاؤ۔میں نے کبھی اپنی بڑائی نہیں کی۔مجھے ضرور تا کچھ کہنا پڑا ہے۔اس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تمہارا ساتھ دوں گا۔مجھے دوبارہ بیعت لینے کی ضرورت نہیں۔تم اپنے پہلے معاہدہ پر قائم رہو ایسا نہ ہو کہ نفاق میں مبتلا ہو جاؤ۔اگر تم مجھ میں کوئی اعوجاج دیکھو تو اس کی استقامت کی دعا سے کوشش کرو مگر یہ گمان نہ کرو کہ تم مجھے بڑھے کو آیت یا حدیث یا مرزا صاحب کے کسی قول کے معنے سمجھا لو گے۔اگر میں گندہ ہوں تو یوں دعا مانگو کہ خدا مجھے دنیا سے اٹھالے۔پھر دیکھو کہ دعا کس پر الٹی پڑتی ہے۔توبہ کرو تو بہ کرو اور دعا کرو اور پھر دعا کرو۔میں فروری گویا نو ماہ سے اس دکھ میں مبتلا ہوں۔اب تم اس بڑھے کو تکلیف میں نہ ڈالو۔اس پر رحم کرو۔اگر میں نے کسی کا مال کھایا تو میں دس گنا دینے کی طاقت رکھتا ہوں۔اگر میں نے کسی سے طمع کیا ہے تو میں لعنت کر کے کہوں گا کہ ایسا آدمی ضرور بول اٹھے۔میں اپنے آپ کو لعنتی سمجھوں گا اگر میں نے تمہارے مالوں میں کچھ لینے کا خیال کیا ہو۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان سے پہلوں کو بھی امیر بنایا ہے۔حضرت مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی، فرید الدین شکر تشنج میرے خاندان کے لوگ ہیں۔اور اب پھر بھی اس نے وعدہ کیا ہے کہ میں تیری اولاد پر فضل کروں گا۔طاعت در معروف ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں طاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوف (الممتحنہ:۳)۔اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا