خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 419 of 703

خطبات نور — Page 419

الوصیت کی تفہیم 419 حضرت صاحب کی تصنیف میں معرفت کا ایک نکتہ ہے وہ میں تمہیں کھول کر سناتا ہوں۔جس کو خلیفہ بنانا تھا اس کا معاملہ تو خدا کے سپرد کر دیا اور ادھر چودہ اشخاص کو فرمایا کہ تم بہیئت مجموعی خلیفۃ المسیح ہو۔تمہارا فیصلہ قطعی فیصلہ ہے اور گورنمنٹ کے نزدیک بھی وہی قطعی ہے۔پھر ان چودہ کے چودہ کو باندھ کر ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرا دی کہ اسے اپنا خلیفہ مانو اور اس طرح تمہیں اکٹھا کر دیا۔پھر نہ صرف چودہ کا بلکہ تمام قوم کا میری خلافت پر اجماع ہو گیا۔اب جو اجماع کا خلاف کرنے والا ہے وہ خدا کا مخالف ہے۔چنانچہ فرمایا وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهُ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (النساء:۱۲)- میں نے الوصیت کو خوب پڑھا ہے۔واقعی چودہ آدمیوں کو خلیفہ المسیح قرار دیا ہے اور ان کی کثرت رائے کے فیصلہ کو قطعی فرمایا۔اب دیکھو کہ انہی متقیوں نے جن کو حضرت صاحب نے اپنی خلافت کے لئے منتخب فرمایا اپنی تقویی کی رائے سے اپنی اجتماعی رائے سے ایک شخص کو اپنا خلیفہ و امیر مقرر کیا اور پھر نہ صرف خود بلکہ ہزا رہا ہزار لوگوں کو اسی کشتی پر چڑھایا جس پر خود سوار ہوئے۔تو کیا خداتعالی ساری قوم کا بیڑا غرق کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔پس تم کان کھول کر سنو۔اگر اب اس معاہدہ کے خلاف کرو گے تو فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ (التوبه (۷۷) کے مصداق بنو گے۔میں نے تمہیں یہ کیوں سنایا؟ اس لئے کہ تم میں بعض نافہم ہیں جو بار بار کمزوریاں دکھاتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجھے سے بڑھ کر جانتے ہیں۔خدا پر بھروسہ خدا نے جس کام پر مجھے مقرر کیا ہے میں بڑے زور سے خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اب میں اس کرتے کو ہرگز نہیں اتار سکتا۔اگر سارا جہان بھی اور تم بھی میرے مخالف ہو جاؤ تو میں تمہاری بالکل پرواہ نہیں کرتا اور نہ کروں گا۔خدا کے مامور کا وعدہ ہے اور اس کا مشاہدہ ہے کہ وہ اس جماعت کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔اس کے عجائبات قدرت بہت عجیب ہیں اور اس کی نظر بہت وسیع ہے۔تم معاہدہ کا حق پورا کرو پھر دیکھو کس قدر ترقی کرتے ہو اور کیسے کامیاب ہوتے ہو۔میرا ایک دوست مجھے کہتا تھا کہ تم آگوں کو دباتے ہو بجھاتے نہیں۔میں نے کہا کہ جلد باز بھلا میرا