خطبات نور — Page 418
418 ہم حضرت صاحب سے بیعت کریں گے اور اس فضل سے حصہ لیں گے جو جماعت سے منتقل ہے۔خدا نے خلوص نیت کو نوازا اور چودہ سو سے کئی لاکھ اس جماعت کو بنا دیا۔اب ضرورت ہے اس جماعت میں اتفاق اتحاد اور وحدت کی اور وہ موقوف ہے خلیفہ کی فرمانبرداری پر۔خلفاء کا مقام ایک خلیفہ آدم تھا۔اس کی نسبت فرمایا ہے اپنی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ (البقرۃ:۳)۔اب خود ہی اس کے بارے میں ارشاد ہے عَضى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى (طه:۳۲) لیکن جب فرشتوں نے کہا مَنْ تُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسبّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقرة (۳) تو ان کو ڈانٹ پلائی کہ تم کون ہوتے ہو ایسا کہنے والے؟ پس فَاسْجُدُوا لِأدَمَ (البقرۃ:۳۵) تم آدم کو سجدہ کرو۔چنانچہ ان کو ایسا کرنا پڑا۔دیکھو خود عاصی اور غوی تک کہہ لیا مگر فرشتوں نے چوں کی تو اس کو ناپسند فرمایا۔میں نے کسی زمانے میں تحقیقات کی ہے کہ نبی کے لئے لازم نہیں کہ اس کے لئے پیشگوئی ہو اور خلیفہ کے لئے تو بالکل ہی لازمی نہیں۔دیکھو! آدم ، پھر داؤد کے لئے کیا کیا مشکلات پیش آئے۔میں اس قسم کا قصہ گو واعظ نہیں کہ تمہیں عجیب عجیب قصے ان کے متعلق سناؤں مگر فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّرَاكِعًا وَّانَابَ۔(ص:۲۵) سے یہ تو پایا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تھا جس کے لئے یہ الفاظ آئے۔تیسرا خلیفہ ابوبکر ہے۔اس کے مقابلہ میں شیعہ جو کچھ اعتراض کرتے ہیں وہ اتنے ہیں کہ تیرہ سو برس گزر گئے مگر وہ اعتراض ختم ہونے میں نہیں آئے۔ابھی ایک کتاب میں نے منگوائی ہے جس کے سات سو چالیس صفحات میرے پاس پہنچے ہیں۔اس میں صرف اتنی بات پر بحث ہے کہ مولیٰ علی رضی اللہ عنہ بہتر ہے یا ابو بکر ؟ پھر شیعہ کہتے ہیں کہ ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پیشگوئی نہیں فرمائی۔چوتھا خلیفہ تم سب ہو۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلِيفَ فِي الْأَرْضِ (یونس :۵) اگلی قوموں کو ہلاک کے تم کو ان کا خلیفہ بنا دیا۔لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس :۱۵) اب دیکھتے ہیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہیں۔چار کا ذکر تو ہو چکا۔اب میں تمہارا خلیفہ ہوں۔اگر کوئی کہے کہ الوصیت میں حضرت صاحب نے نورالدین کا ذکر نہیں کیا تو ہم کہتے ہیں ایسا ہی آدم اور ابوبکر کا ذکر بھی پہلی پیشگوئیوں میں نہیں۔