خطبات نور — Page 378
روح 378 علم کو حاصل کرو مگر عمل کو مقدم رکھو۔میں صرف طالب علموں کو نہیں کہتا بلکہ یہاں جتنے آئے ہیں وہ سب طالبعلم ہیں۔یہ خطبہ ہی ایک تعلیم ہے۔دیکھو خدا نے ابراہیم کو بطور نمونہ پیش کیا ہے اور فرماتا ہے کہ ابراہیم کے دین کو کوئی نہیں چھوڑ سکتا مگر وہی جو سفیہ ہو۔ابراہیم کو خدا نے برگزیدہ کیا۔یہ سنوار والے لوگوں میں سے تھا۔تمام محبتوں، عداوتوں اور تمام افعال میں ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کرنے کالحاظ رکھو پھر تمہیں ابراہیم سا انعام دیں گے۔فرمانبرداروں کی راہ اختیار کرو۔میں تو حضرت صاحب کی مجلس میں بھی قربانی ہی سیکھتا رہتا تھا۔جب وہ کچھ فرماتے تو میں یہ دیکھتا تھا کہ آیا یہ عیب مجھ میں تو نہیں۔جناب الہی میں محبوب بننے کے لئے اتباع رسول کی سخت ضرورت ہے۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران :۳۲۔ساری دنیا کو قربان کر دو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع پر دیکھو۔حضرت ابراہیم نے کیسی قربانی کی اور آخر اسی قربانی کے وسیلے سے وہ اس وجاہت پر پہنچا کہ خدا کے محبوبوں میں ایک ممتاز محبوب نظر آیا۔جو قربانی کرتا ہے اللہ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے۔پھر اسے محبت کا مظہر بناتا ہے۔پھر اللہ انہیں عبودیت بخشتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں لا محدود ترقیاں ہو سکتی ہیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم کو بھی کہا گیا۔اسلم تو انہوں نے فوراً کہا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرة :۳۳)- خير جب یہ عبودیت کا تعلق مستحکم ہو جاتا ہے تو پھر اس میں عصمت پیدا ہوتی ہے اور خدا اسے تبلیغ کا موقع دیتا ہے پھر اس کو ایک قسم کی دھت ہو جاتی ہے۔خواہ کوئی مانے یا نہ مانے اس میں ایک ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور وہ قول موجہ سے لوگوں کو امر بالمعروف کرتا ہے۔پھر وقت آتا ہے جب حکم ہوتا ہے کہ لوگوں سے یوں کہو۔جوں جوں ترقی کرتا جاتا ہے خدا کا فضل اور درجات بڑھتے جاتے ہیں۔قربانی کا نظارہ عقلمند انسان کے لئے بہت مفید ہے۔اپنے اعمال کا مطالعہ کرو۔اپنے فعلوں میں باتوں میں خوشیوں میں ملنساریوں میں اخلاق میں غور کرو کہ ادنی کو اعلیٰ کے لئے ترک کرتے ہو یا نہیں؟ اگر کرتے ہو تو مبارک ہے تمہارا وجود۔عیب دار قربانیاں چھوڑ دو۔تمہاری قربانیوں میں کوئی عیب نہ ہو نه سینگ کٹے ہوئے، نہ کان کٹے ہوئے۔قربانی کے لئے تین راہیں ہیں۔(۱) استغفار (۲) دعا (۳) صحبت صلحاء۔انسان کو صحبت سے بڑے بڑے فوائد پہنچتے ہیں۔صحبت صالحین حاصل کرو۔قربانی کے لئے تین دن ہیں۔پر روحانی قربانی والے جانتے ہیں کہ سب ان کے لئے یکساں ہیں۔میں تمہیں وعظ تو ہر روز سناتا ہوں، خدا عمل کی توفیق دیوے۔( بدر جلد ۸ نمبر ۰۱۳-۲۱ / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۷-۸)