خطبات نور — Page 375
375 يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدہ:۲۸) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد آدم (یہاں اس امر سے بحث نہیں کہ کتنے آدم گزرے ہیں بہر حال ایک آدم کی اولاد) نے قربانی کی۔قربانی" کہتے ہیں اللہ کے قرب کے حصول اور اس میں کوشش کرنے کو۔میرا ایک دوست تھا۔اسے کبوتروں کا بہت شوق تھا۔شاہجہانپور سے تین سو روپے کا جوڑا منگوایا۔اسے اڑا کر تماشا کر رہا تھا کہ ایک بحری نے اس پر حملہ کیا اور اسے کاٹ دیا۔میں نے کہا کہ دیکھو یہ بھی قربانی ہے۔باز ایک جانور ہے، اس کی زندگی بہت سی قربانیوں پر موقوف ہے۔اسی طرح شیر ہے، اس کی زندگی کا انحصار کئی دوسرے جانوروں پر ہے۔بلی ہے اس پر چوہے قربان ہوتے ہیں۔پھر پانی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلیوں میں بھی یہ طریق قربانی جاری ہے۔ویل مچھلی پر ہزاروں مچھلیوں کو قربان ہونا پڑتا ہے۔اسی طرح اثر دہا ہے کہ جس پر مرغا قربان ہوتا ہے۔غرض اعلیٰ ہستی کے لئے ادنی ہستی قربان ہوتی رہتی ہے۔اسی طرح انسان کی خدمت میں کس قدر جانور لگے ہوئے ہیں۔کوئی ہل کے لئے کوئی بگھیوں کے لئے کوئی لذیذ غذا بننے کے لئے۔پھر اس سے اوپر بھی ایک سلسلہ چلتا ہے، وہ یہ کہ ایک آدمی دوسروں کے لئے اپنے مال یا اپنے وقت یا اپنی جان کو قربان کرتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لڑائیوں میں ادنیٰ اعلیٰ پر قربان ہوتے ہیں۔سپاہی قربان ہوتے جائیں مگر افسر بیچ رہے۔پھر افسر قربان ہوتے جائیں مگر کمانڈر انچیف کی جان سلامت رہے۔پھر کئی کمانڈر انچیف بھی ہلاک ہو جاویں مگر بادشاہ بیچ رہے۔غرض قربانی کا سلسلہ دور تک چلتا ہے۔اس پر بعض ہندو جو ذبیح اور قربانی پر معترض ہیں ان سے ہم نے خود دیکھا کہ جب کسی کے ناک میں کیڑے پڑ جاویں تو پھر ان کو جان سے مارنا کچھ عیب نہیں سمجھتے بلکہ ان کیڑوں کے مارنے والے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔شکریہ کے علاوہ مالی خدمت بھی کرتے ہیں۔پھر اس سلسلہ کائنات سے آگے اگلے جہان کے لئے بھی قربانیاں ہوتی رہتی ہیں۔اگلے زمانہ میں دستور تھا کہ جب کوئی بادشاہ مرتا تو اس کے ساتھ بہت سے معززین کو قتل کر دیا جاتا تا اگلے جہان میں اس کی خدمت کر سکیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جس ملک میں تھے شام اس کا نام تھا۔وہاں آدمی کی قربانی کا بہت رواج تھا۔اللہ نے انہیں ہادی کر کے بھیجا اور اللہ نے ان کو حقیقت سے آگاہ کیا۔حضرت ابراہیم نے رویاء میں دیکھا جبکہ ان کی ننانوے سال عمر تھی کہ میں بچہ کو قربان کروں۔ایک ہی بیٹا تھا۔دوسری طرف اللہ کا وعدہ تھا کہ کبھی مردم شماری کے نیچے تیری قوم نہ آئے گی۔ادھر عمر کا یہ حال ہے اور بچہ چلنے کے پہیل ایک ہی ہے، اسے حکم ہوتا ہے کہ ذبح کر دو۔رویاء کا عام مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھے تو اس کی بجائے کوئی بکرا و غیرہ ذبح کر دے۔اسی طرح یہاں لوگوں کو کہا کہ میں بیٹے کو