خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 306 of 703

خطبات نور — Page 306

306 ایسا کہ جو حق تقوی ہو اور مومن منتہی بن جاؤ۔ایمان اور تقویٰ کی کچی بنا اور اصلی جڑ عقائد صحیحہ ہیں۔سو انسان کا فرض ہے کہ تکمیل ایمان اور تقویٰ کے لئے ان عقائد صحیحہ کی تلاش اور جستجو کرے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی ایک آیت میں بیان فرما دیئے ہیں جہاں فرمایا ہے لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ (البقرة:۱۷۸) تقویٰ کی جڑ اور بنیاد بچے عقائد ہیں۔اور ان کی جڑ کی بھی جڑ کیا ہے آمَنَ بِاللَّهِ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا کہ وہ ہر بدی سے منزہ اور کل صفات کاملہ کا مالک اور حقیقتاً وہی معبود، مقصود اور مطلوب ہے۔اس کے اسماء افعال اور صفات پر کامل ایمان لانا۔اور کہ وہ نیکی سے خوش اور بدی سے ناراض ہو کر نیکی کے عوض انعامات اور بدیوں پر سزا دینے والا اور قادر مقتدر ہستی ہے۔وہ رب ہے رحمن ہے، رحیم ہے، مالک یوم الدین ہے۔غرض انسان اس طرح سے جب حقیقی طور سے اللہ کی صفات سے آگاہی حاصل کر کے ان پر کامل ایمان لاتا ہے تو پھر ہر بدی سے بچنے کے واسطے اس کو جناب الہی سے ایک راہ عطا کی جاتی ہے جس سے بدیوں سے بچ جاتا ہے۔فطرت انسانی میں یہ امر روز ازل سے ودیعت کر دیا گیا ہے کہ انسان جس چیز کو اپنے واسطے یقیناً مضر جانتا ہے اس کے نزدیک تک نہیں جاتا۔بھلا کبھی کسی نے کسی سلیم الفطرت انسان کو کبھی جان بوجھ کر آگ میں ہاتھ ڈالتے یا آگ کے انگارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔یا کوئی شخص اس حالت میں کہ اس کو اس امر کا وہم ہی ہو کہ اس کے کھانے میں زہر کی آمیزش ہے، اس کھانے کو کھاتے دیکھا ہے؟ یا کبھی کسی نے ایک کالے سانپ کو حالا نکہ وہ جانتا ہو کہ اس کے دانت نہیں توڑے گئے اور اس میں زہر اور کاٹنے کی طاقت موجود ہے، کسی کو ہاتھ میں بے خوف پکڑنے کی جرات کرتے دیکھا ہے؟ یاد رکھو کہ اس کا جواب نفی میں ہی دیا جائے گا۔کیونکہ یہ امر فطرت انسانی میں مرکوز ہے کہ جس چیز کو یہ ضرر رساں یقین کرتا ہے اس کے نزدیک نہیں جاتا اور حتی الوسع اس سے بچتا رہتا ہے۔تو پھر غور کا مقام ہے کہ جب انسان خدا پر کامل یقین رکھتا ہو اور اس کی صفات سے خوب آگاہ ہو اور یہ بھی یقین رکھتا ہو کہ خدا نیکی سے خوش اور بدی سے ناراض ہوتا ہے اور سخت سے سخت سزا دینے پر قادر ہے اور سزا دیتا ہے اور یہ کہ گناہ حقیقت میں ایک زہر ہے اور خدا کی نافرمانی ایک بھسم کر دینے والی آگ ہے اور اس کو آگ کے جلانے پر اور زہر کے ہلاک کر دینے پر اور سانپ کے کاٹنے سے مرجانے پر جیسا ایمان ہے اگر ایسا ہی ایمان خدا کی نافرمانی اور گناہ کرنے پر خطرناک عذاب اور ہلاکت و عذاب کا یقین ہو تو کیونکر گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور کیونکر خدا کی نافرمانی کے انگارے کھائے جا سکتے ہیں۔دیکھو انسان اپنے مربی دوست یار آشنا اور کسی طاقتور با