خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 703

خطبات نور — Page 297

(مسلم و ابن ماجه کتاب الجنائز) 297 خطبات فور اور قرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اجر کا وعدہ ہے۔وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلوتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرد (DALED) یعنی مصائب پر صبر کرنے والوں اور انا للہ کہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں۔(۵)۔صلوات ہوتے ہیں ان پر اللہ کے۔(۲)۔رحمت ہوتی ہے ان پر اللہ کی۔(۷)۔اور آخر کار ہدایت یافتہ ہو کر ان کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ہے۔اب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسانوں کو ان انعامات کا تصور آجاوے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت مصیبت رہ سکتی ہے اور غم غم رہتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس کیسا پاک کلمہ ہے الْحَمْدُ اللهِ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔یہ نہایت ہی لطیف نکتہ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف اسی آیت سے شروع ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خطبات کا ابتدا بھی اسی سے ہوا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ ۱۰۰۰۰۰ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۱-۲)