خطبات نور — Page 296
296 معنی سوچو اور ان پر غور کرو۔خطبہ ثانیہ فرمایا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ایسا پاک کلمہ ہے اور اس میں ایسے سمندر حکمت الہی کے بھرے ہوئے ہیں کہ جن کا خاتمہ ہی نہیں۔میں بعض اوقات نماز میں اَلْحَمْدُ لِلہ پڑھنے کے بعد ٹھر جاتا ہوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میں ان کے معانی میں غور و خوض کرتا ہوا غرق ہو جاتا ہوں۔دیکھو بعض وقت مجھے بھی سخت سے سخت مشکلات اور تکلیف پہنچی ہیں کہ ان سے جان جانے کا بھی اندیشہ ہوا ہے۔مگر میں نے جب قرآن شریف کو شروع کیا ہے اور اس میں اول ہی اول الْحَمْدُ لِلَّهِ سے شروع ہوا ہے اور میں نے اس آیت پر غور کیا ہے تو دل میں بسا اوقات جوش آیا ہے کہ بتاؤ تو سی اب الْحَمْدُ اللہ کا کیا مقام ہے؟ ان مصائب اور دکھوں کے سمندر میں کس طرح سے الْحَمْدُ لِلَّهِ کہو گے۔اور ممکن ہے کہ کسی دوسرے مومن کے دل میں بھی آیا ہو۔کیونکہ میرے دل میں ایسا با رہا آیا ہے۔تو اس کے واسطے میں نے غور سے دیکھا ہے کہ مصائب اور مشکلات میں واقعی اللہ تعالیٰ کی ذات سات طرح سے الحمد للہ کہے جانے کے لائق ذات ہے۔ہر بلا کیں قوم را زیر اں گنج کرم ご داده است بنهاده است (۱)۔اول تو اس لئے کہ مصائب اور شدائد کفارہ گناہ ہوتے ہیں۔سو یہ بھی اس کا فضل ہے۔ورنہ قیامت میں خدا جانے ان کی سزا کیا ہے۔اس دنیا ہی میں بھگت کر نپٹ لیا۔(۲)۔اس لئے کہ ہر مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ممکن ہے۔اس کا فضل ہے کہ اعلیٰ اور سخت مصیبت سے بچالیا۔(۳)۔مصائب دو قسم کے ہوتے ہیں دینی اور دنیوی۔ممکن ہے کہ گناہ کی سزا میں انسان کی اولاد مرتد ہو جاوے یا یہ خود ہی مرتد ہو جاوے۔سو اس کا فضل ہے کہ اس نے دینی مصائب سے بچالیا اور دنیوی مشکلات ہی پر اکتفا کر دیا۔(۴)۔مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اجر ملتے ہیں چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنِ پڑھ کر یہ دعا مانگو۔اَللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْنِي خَيْرًا مِّنْهَا