خطبات نور — Page 295
295 بعض لوگ جو کم فرصتی کی شکایت کر کے اذان کی چنداں پرواہ نہیں کرتے وہ بھی اسی ذیل میں ہیں جو ایمان کی حقیقت اور اذان کے بچے معنوں سے ناواقف ہیں۔پھر چونکہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کے واسطے اس کے احکام اوامر و نواہی کا ہونا بھی ضروری ہے پس جس انسان کے ذریعہ سے وہ احکام اوامر و نواہی ہمیں پہنچے ہیں وہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔چونکہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کی حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور بغیر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے کے ہمیں اللہ کے اوامر و نواہی کی اطلاع نہیں ہو سکتی۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم ہیں اور آپ ہی کے ذریعہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات کا یقین ہوا ہے اور آپ کا وجود خدا نما وجود ہے اس واسطے اَشْهَدُ أن لا إله إلا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لازم ملزوم کر دیا۔پھر چونکہ شکریہ کا کامل ذریعہ عبادت کا کامل ذریعہ اپنے مطالب کے حصول کا کامل ذریعہ حق سبحانہ تعالی کی تعظیم کا اعلیٰ مقام انسانی ترقیات کا انتہائی نتیجہ جس کا نام معراج ہے، گناہ اور گندوں سے پاک ہونے کی کچی راہ صرف صرف نماز ہی ہے اس واسطے بلانے کی وجہ بتائی کہ نماز کی طرف بلاوا ہے۔پھر نماز میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کیسا پاک کلمہ ہے۔نبی ، شہید ، صدیق اور صالحین جیسے عظیم الشان محسنوں کی راہ جن کے احسانات کی کوئی قیمت ہی نہیں بجز اس کے کہ کوئی جان ہی خدا کر دے ان کی راہ پر چلنے کی درخواست کرتا ہے اور ان کے رنگ میں رنگین ہونے کی خواہش کرتا ہے اور ان کے واسطے دعائیں کرتا ہے، سلام بھیجتا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سردار انبیاء ہیں عجیب طرح سے گداز ہو ہو کر درد دل سے ان کے واسطے کہتا ہے اور دل میں محبت کا ایسا جوش پیدا کرتا ہے کہ گویا ان ا کے احسانات کے باعث ان کو اپنے تصور میں سامنے لے آتا ہے اور کہتا ہے اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ غرض اذان ایک اعلیٰ قسم کا کامل و اکمل طرز دعوت ہے جس میں خلاصہ اسلام بیان کر دیا ہے۔دعوت کیوجہ بیان فرمائی گئی ہے اور پھر نتیجہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔فلاح کے معنے ہیں کامیاب ہو جاتا۔دشمنوں کے مقابلہ میں مظفر و منصور ہو جانا۔اسی واسطے حکم ہے که إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت ۴۴) نماز تمام بدیوں اور بدکاریوں سے بچا لیتی ہے اور پھر اس کا نتیجہ فلاح ہے۔پھر بعد اذان کے جوش میں آکر کہتا ہے اور دعوت کو ختم کرتا ہے۔لا اله الا اللہ فرمایا کہ اذان کے