خطبات نور — Page 281
281 پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ضابطہ اور عملدرآمد کے موافق ہے یا نہیں؟ پھر لڑکیوں کے ولی کی رضامندی ضروری ہے۔اگر ولی رضامند نہ ہوں اور پھر کوئی نکاح ہو تو ایسے نکاح بدیوں میں مل جاتے ہیں اور ان کے نتائج خراب اور ناگوار ہوتے ہیں۔ایسا ہی لڑکوں اور لڑکیوں کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ان پانچ رضا مندیوں کے بعد گویا نکاح ہوتا ہے اور اگر ان میں کسی ایک کی بھی نارضامندی اور مخالفت ہو تو پھر اس میں مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔یہ پانچ رضامندیاں کیا ہیں؟ حق سبحانہ تعالیٰ کی اجازت۔یعنی ان رشتوں میں (سے) نہ ہو جن کی ممانعت کی گئی ہے۔صبط وحی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمد۔ولیوں اور طرفین کی رضامندی کے بعد جب ایک فریق منظور کرتا ہے اور دوسرا اس کو قبول کرتا ہے تو یہ نکاح ہوتا ہے۔قسم قسم کی بدیوں اور شرارتوں کو روکنے کے لئے اعلان اور خطبہ نکاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی۔اعلان نکاح میں دوست دشمن کو خبر ہو جاتی ہے اور اس سے جہاں ایک دوسرے کی غلطیوں سے آگاہی ہو جاتی ہے وہاں و راشتوں اور جائدادوں کے جھگڑوں میں کوئی دقت پیدا نہیں ہوتی۔اور خطبہ کے کئی اغراض ہیں۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ عربی زبان کی حفاظت۔سو یہ زبان ایسی زبان ہے جس کے ساتھ دین، رسول اور قوم رسول کا تعلق ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب اسی زبان میں ہے۔اس کتاب کی حفاظت کے مختلف سامان اور ذریعے ہیں۔ان میں سے ایک اس زبان کی حفاظت بھی ہے۔اس لئے اس کو مسلمانوں کے تمام عظیم الشان کاموں سے تعلق ہے۔ان کے دینی عظیم الشان کام نماز اقرار باللسان، حج ، روزہ ، زکوۃ ہیں۔سوشل معاملات میں نکاح سب سے بڑا کام ہے۔ترنی امور میں تجارت، زراعت بھی اعلیٰ کام ہیں۔ان سب امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین اولیاء امت سلف صالحین اور حضرت امام الزمان نے کچھ نہ کچھ الفاظ عربی زبان کے لازمی قرار دیئے ہیں۔مثلاً اقرار السان میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَمْ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ امام صاحب جب بیعت لیتے ہیں تو بہت سے عربی الفاظ بیان فرماتے اور معاہدہ لیتے ہیں۔عربی کے الفاظ کی سنت متوارثہ کو مجدد الوقت نے بیعت کے الفاظ اور معاہدات میں لازم رکھا ہے۔عورتوں کی بیعت میں بھی میں نے سنا ہے ایسا ہی کرتے ہیں اور مردوں کی بیعت میں تو دیکھا ہے۔اقرار باللسان کے بعد اعلیٰ شان کی چیز نماز ہے۔اگر کسی نے ضائع کی تو اس نے اپنا دین ضائع کیا۔اور سچ تو یہ ہے کہ کفر اور اسلام کا تفرقہ اس میں واقع ہوا ہے۔اس کا سارا ہی حصہ دیکھ لو۔سوائے اس نصہ