خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 267 of 703

خطبات نور — Page 267

267 طلبات نور برکات انہوں نے دیکھے تو ان کو خواہش ہوئی کہ ایسا ہی دوسرے مہینوں کی عبادت کا ثواب بھی حاصل کریں۔اس واسطے انہوں نے یہ سوال پیش کیا۔فرمایا دو بڑے نشان آسمان پر دکھائے گئے۔سورج گہن اور چاند گہن۔ماہ رمضان میں ایسا ہی دو نشان زمین پر ہیں۔قحط اور طاعون۔فرمایا۔حج کے متعلق حضرت ابراہیم کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ اذِنْ فِي النَّاسِ (الحج ۲۸) تب سے آج تک یہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔جس طرح کبوتر اپنے کا بک کو دوڑنے ہیں اس طرح لوگر چی کو جاتے ہیں۔زمانہ جاہلیت عرب میں رسم تھی کہ سفر ہو جاتے ہوئے کوئی بات یاد آتی تو دروازے کے راہ سے گھر میں نہ آتے۔اس سے خدا تعالٰی نے منع فرمایا اور اس میں ایک اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ ہر ایک کام میں اس راہ سے جاؤ اور اس دروازے سے داخل ہو جو خدا نے مقرر کیا اور اس کے رسول نے دکھایا : در رسول کے خلفاء اور اس زمانہ کا امام بتلا رہا ہے۔خدا چاہتا تو اپنے رسول کے واسطے اپنے خزانے کھول دیتا اور تم میں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی مگر پھر تمہارے واسطے کوئی ثواب نہ ہوتا۔جب خدا کسی قوم کو عزت دینا چاہتا ہے تو یہی سنت اللہ ہے کہ پہلے اس سے اللہ کی راہ میں مالی جانی بدنی خدمات لی جاتی ہیں۔اس زمانہ میں غلام کے چھو ڑانے کا ثواب مقروض کے قرضہ کے ادا کرنے سے ہو سکتا ہے اور دو خاص مقروضوں کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا جن کے واسطے چندہ کی ضرورت ہے۔ان لوگوں کے واسطے بھی خرچ کرنا چاہئے جو دینی علوم کے حصول میں (طلباء) یا دینی خدمات میں مصروف ہونے کے سبب اُحْصِرُوا فِی سَبیل اللہ کے مصداق ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی دینا چاہئے جو سوال کے عادی نہ ہونے کے سبب کسی ضابطہ کی پابندی میں نہیں آسکتے۔خطبہ جمعہ : جمعہ کے خطبہ میں آپ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ جب تک انسان محنت مشقت نہ اٹھائے خدا کی راہ میں ابتلاؤں کی برداشت نہ کرے وہ انعام و اکرام نہیں پا سکتا۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف اتنا منہ سے کہہ کر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لائے۔نہیں۔بلکہ ان پر وہ ابتلا ضرور آئیں گے جو پہلوں پر آئے۔یہ وقت ہے کہ جناب الہی کو راضی کرلو۔(بدر جلد نمبر ۴۶۔۔۔۔۔۱۰/ نومبر نے ۱۹۰ء صفحہ ۱)