خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 258 of 703

خطبات نور — Page 258

258 شرارتوں اور گناہوں کی ماں اور جڑ دور نہ ہو تب تک کسی نیکی کی امید نہیں ہو سکتی اور تاوقتیکہ اصلی جڑ اور اصلی محرک بدی کا دور نہ ہو فروعی بدیاں بکلی دور نہیں ہو سکتیں۔جب تک بدیوں کی جڑ نہ کائی جاوے تب تک وہ اور بدیوں کو اپنی طرف کھینچے گی اور دوسری بدیاں اپنا پیوند اس سے رکھیں گی۔مثلاً شہوت بد ایک گناہ ہے۔بد نظری، زنا، لواطت، حسن پرستی، سب اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔حرص اور طمع جب آتا ہے تو چوری، جعلسازی ڈاکہ زنی ناجائز طور سے دوسروں کے مال حاصل کرنے اور طرح طرح کی دھوکہ بازیاں سب اسی کی وجہ سے کرنی پڑتی ہیں۔غرض یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ بعض باتیں اصل ہوتی ہیں اور بعض ان کی فروعات ہوتی ہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے وہ کوئی حقیقی اور سچی نیکی ہرگز نہیں کر سکتے اور وہ کسی کامل خلق کا نمونہ نہیں دکھا سکتے کیونکہ وہ کسی صحیح نتیجہ کے قائل نہیں ہوتے۔میں نے بڑے بڑے دہریوں کو مل کر پوچھا ہے کہ کیا تم کسی بچے اخلاق کو ظاہر کر سکتے ہو اور کوئی حقیقی نیکی عمل میں لا سکتے ہو تو وہ لاجواب سے ہو کر رہ گئے ہیں۔ہمارے زیر علاج بھی ایک دہریہ ہے۔میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا تو وہ ہنس کر خاموش ہو گیا تھا۔ایسے ہی جو لوگ قیامت کے قائل نہیں ہوتے وہ بھی کسی حقیقی نیکی کو کامل طور پر عمل میں نہیں لا سکتے۔نیکیوں کا آغاز جزا سزا کے مسئلہ سے ہی ہوتا ہے۔جو شخص جزا سزا کا قائل نہیں ہوتا وہ نیکیوں کے کام بھی نہیں کر سکتا۔ایسے ہی جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے اس قسم کے الفاظ سے مجھے رنج پہنچتا ہے وہ کسی کی نسبت ویسے الفاظ کیوں استعمال کرنے لگا۔یا جو شخص اپنی لڑکی سے بد نظری اور بد کاری کروانا نہیں چاہتا اور اسے ایک برا کام سمجھتا ہے وہ دوسروں کی لڑکیوں سے بد نظری کرنا کب جائز سمجھتا ہے۔ایسے ہی جو اپنی ہتک کو برا خیال کرتا ہے وہ دوسروں کی ہتک کبھی نہیں کرتا۔بہر حال یہاں اللہ تعالٰی نے گناہوں سے بچنے کا ایک گر بتایا ہے۔يُأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا من القلن إن بعض ان اہم ایماندارو! ظن سے بچنا چاہئے کیونکہ بہت سے گناہ اس سے پیدا ہوتے ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (بخاری کتاب الوصایا)۔ایک شخص کسی کے آگے اپنی ضرورتوں کا اظہار کرتا ہے اور اپنے مطلب کو پیش کرتا ہے۔لیکن اس کے گھر کی حالت اور اس کی حالت کو نہیں جانتا اور اس کی طاقت اور دولت سے بے خبر ہوتا ہے۔اپنی حاجت براری ہوتے نہ دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شرارت کی اور میری دستگیری سے منہ موڑا۔تب محض ظن کی بنا پر اس جگہ جہاں اس کی محبت بڑھنی چاہئے تھی، عداوت کا بیج بویا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ان گناہوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو عداوت کا پھل ہیں۔کئی