خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 230 of 703

خطبات نور — Page 230

230 نے اہل علم میں سے کوئی تطبیق اور توجیہ دیگر بیان نہ فرمائی تو یہی ثابت ہو گا کہ یہ ہی تطبیق ان کو پسند ہے اور وہ تطبیق یہ ہے کہ اسلام میں دو قسم کے روزے ہیں جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں۔ایک لازم اور دوسرے غیر لازم۔چونکہ روزہ جو بہ نسبت دیگر عبادات کے ایک عمدہ عبادت ہے جس سے مومن مقتبع انوار الٹی کو حاصل کر سکتا ہے اور مکالمات الہی کا بجلی گاہ ہو سکتا ہے جیسا کہ کلام نبوت میں وارد ہوا ہے که الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أُخْرَى به (بخاری کتاب الصوم یعنی بصیغہ مجهول ترجمہ روزہ مومن کا خاص میرے ہی لئے ہوتا ہے جس میں ریا وغیرہ کو کچھ دخل نہیں اور اس کی جزا میں خود ہو جاتا ہوں۔یا انا اجزی به بصیغه معروف کہ میں بلا وساطت غیرے خود اس کی جزا دیتا ہوں وغیرہ وغیرہ من الاحادیث الصحیحہ۔یہ احادیث اس امر پر صریح دال ہیں اور سر اس میں یہی ہے کہ انسان روزے میں فجر سے لے کر شام تک تینوں خواہشوں کھانے پینے جماع سے رکا رہتا ہے اور پھر اس کے ساتھ اپنے آپ کو ذکر الهی، تلاوت نماز درود شریف کے پڑھنے میں مشغول رکھتا ہے تو پھر اس کی روح پر عالم غیب کے انوار کی تجلی اور ملاء اعلیٰ تک اس کی رسائی کیونکر نہ ہو گی۔اور یہ جو احادیث میں وارد ہوا ہے کہ رمضان شریف میں شیطان زنجیروں میں بند کئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ملہم غیبی آواز دیتا ہے کہ اے طالب نیکی کے! اس طرف کو آ اور اے برائی کے کرنے والے! کو تاہی کر۔یہ سب ایسی احادیث اسی امر لطیف کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔پس کوئی شبہ نہیں کہ ظلمات جسمانیہ کے دور کرنے کے لئے روزہ سے بہتر اور افضل کوئی عبادت نہیں اور انوار و مکالمات الہیہ کی تحصیل کے لئے روزہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں۔اور حضرت موسی نے جب کوہ طور پر تمہیں بلکہ چالیس روزے رکھے تب ہی ان کو تو رات ملی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غار حرا کے اعتکاف میں روزوں کا رکھنا ثابت ہے جس کے برکات سے نزول قرآن کا شروع ہوا اور خود قرآن مجید بھی اسی طرف ناظر ہے که شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔اور مسیح موعود نے بھی چھ ماہ یا زیادہ مدت تک روز بے رکھے ہیں جن کی برکات سے ہزاروں الہامات کے وہ مورد ہو رہے ہیں۔بدیں وجوہ موجہ قرآن اور اسلام نے جو جامع تمام صداقتوں اور معارف کا ہے دونوں قسم کے روزوں کو واسطے حاصل ہونے مزید تصفیہ قلب کے ثابت و برقرار رکھا۔ہاں دونوں قسموں کے حکم جداگانہ فرما دیئے گئے۔صیام غیر لازم کا حکم تو یوں فرمایا کہ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ اور صیام لازم کا حکم یوں ارشاد ہوا کہ فَلْيَصُمْهُ اور و لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ - آگے رہا لفظ كُتب، جس کے معنے مفسرین فرض لکھتے ہیں۔اس کی نسبت یہ گزارش ہے کہ کچھ ضروری نہیں کہ اس کے معنی فرضیت ہی کے لئے جاویں بلکہ جو حکم شرعی لازم یا غیر لازم ہو