خطبات نور — Page 231
231 اس کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ شرع اسلام میں مکتوب یا لکھا ہوا ہے خواہ وہ حکم لازم ہو یا غیر لازم۔یہ اصطلاح علماہی کی ہے نہ قرآن مجید کی اصطلاح کیونکہ لفظ کتاب یا اس کی مشتقات قرآن مجید میں صدہا جگہ آئے ہیں، تاہم وہاں پر مراد الی فرضیت نہیں ہے۔کما قال تعالى وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ (البقرة:۲۸۳) أَيْضًا يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ (البقره: ۸) وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ الْكَثِيرَةِ آگے رہا حکم شیخ فانی مرضعہ پیر ضعیف یا جوان نهایت لاغر و نحیف و غیر ہم کا جن پر روزہ رکھنا نہایت درجہ پر شاق معلوم ہوتا ہے۔سو یہ سب لوگ بایں شرط مشقت حکم مریض میں داخل ہیں کیونکہ تعریف مریض کی ان پر صادق آتی ہے کہ ان کے جملہ قومی کے افعال اپنی حالت اصلی پر باقی نہیں رہے۔اگر یہ لوگ فدیہ بھی دیویں تو مَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ پر قیاس کئے جاسکتے ہیں مگر فدیہ بھی اسی شخص پر ہے جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتا ہو۔ورنہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کا روزہ افطار کرنے والے نے خود الٹا ساٹھ مسکینوں کا طعام فدیتا لے لیا ہے کمافی المشکوۃ اور خود قرآن مجید ہی فرماتا ہے کہ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقر ) اور لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: ۲۸۷) وغیرہ وغیرہ من الآيات اس توجیہ سے وہ تکلفات جو مذکور ہوئے نہیں لازم آتے وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔اب واضح ہو کہ جس قدر احکام شرع اسلام میں مقرر ہیں ان میں اسرار عجیبہ اور لطائف غریبہ غور کرنے سے معلوم ہو سکتے ہیں۔مثلاً یہاں پر جو شَهْرُ رَمَضَانَ واسطے قیام کے اللہ تعالیٰ کے کلام میں مخصوص فرمایا گیا اس میں ایک عجیب سر یہ ہے کہ یہ مہینہ آغاز سنہ ہجری سے نواں (۹) مہینہ ہے۔یعنی ا۔محرم ۲۔صفر -۳ ربیع الاول -۴- ربیع الثانی ۵ جمادی الاول - جمادی الثانی ۷ رجب -۸- شعبان ۹۔رمضان اور ظاہر ہے کہ انسان کی تکمیل جسمانی شکم مادر میں نو ماہ میں ہی ہوتی ہے اور عدد نو کا فی نفسہ بھی ایک ایسا کامل عدد ہے کہ باقی اعداد اسی کے احاد سے مرکب ہوتے چلے جاتے ہیں، لاغیر۔پس اس میں اشارہ اس امر کی طرف ہوا کہ انسان کی روحانی تکمیل بھی اسی نویں مہینے رمضان ہی میں ہونی چاہئے اور وہ بھی اس تدریج کے ساتھ کہ آغاز شہور ہجری سے ہر ایک ماہ میں ایام بیض وغیرہ کے روزے رکھنے سے بتدریج تصفیہ قلب حاصل ہو تا رہا۔جیسا کہ شیخ نے کہا ہے کہ " صفائی تامل بتدریج حاصل کنی در آئینہ دل کنی حتی کہ نواں مہینہ رمضان شریف کا آگیا تو اس کے لئے یہ حکم ہوا کہ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ