خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 213 of 703

خطبات نور — Page 213

213 خطبات اور میں کاذب کا قتل ہو جانا مر جانا شرط نہیں۔صرف وقوع لعنت الہی کا ہی ہو خواہ کسی طرح ہو۔اور عذاب قتل جو بموجب پیشین گوئی ملم ربانی کے واقع ہو جس میں دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا قتل کرنا بطور ذب کے چاہتا ہے ایسا عذاب نہیں ہے جس میں ایمان بالغیب کی حکمت باقی نہ رہتی ہو یا اجبار لازم آوے۔الحاصل مباہلہ میں کاذب پر لعنت کا وقوع ضروری ہے خواہ کسی رنگ میں ہو۔مباہلہ میں ایسا عذاب جس میں مثل بارش کے آسمان سے پتھر برسنے لگیں یا اس سے بھی زیادہ مولم ہو جس میں کوئی متنفس نہ بچ سکے نازل نہیں ہوتا کہ سنت اللہ کے خلاف ہے۔اسی لئے ان دونوں آیتوں کے آگے ہی دوسرے عذابوں کے ثبوت کے لئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وَمَالَهُمْ أن لا يعلتهُمُ الله وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (انفال (۳۵) یعنی اور کیا ہے واسطے ان کے کہ نہ عذاب کرے گا ان کو اللہ اور وہ رد کتے ہیں مسجد حرام ہے۔اور پھر اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ قید لگائی کہ وَأَنْتَ فِيهِمْ وہ بھی ایسے ہی عذاب کذائی کے عدم نزول کی طرف اشارہ کر رہی ہے یعنی جبکہ ایسا عذاب نازل ہو دے گا تو پھر اس کا اثر تم کو بھی پہنچے گا۔لہذا ایسے عذاب کا نازل کرنا ہماری سنت قدیمہ کے خلاف ہے۔اس آیت مباہلہ کی مناسبت ساتھ زمانہ مسیح موعود کے عجیب و غریب اسلوب سے واقع ہوئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی یہ مسالہ حضرت عیسی ہی کے بارہ میں واقع ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بعد اتمام حجت اور اتمام مناظرات کے یہ مباہلہ واقع ہوا تھا۔یہاں پر بھی بعد مناظرات اور تمام حجت کے واقع ہوا۔نصاریٰ نجران کے خوف زدہ ہو کر مہابلہ پر آمادہ نہ ہوئے یہاں پر بھی اوائل میں شیخ الکل معہ اپنی جماعت کے مباہلہ نہ کر سکے بلکہ مولوی محمد حسین صاحب بھی مباہلہ پر مستعد نہ ہو سکے۔اور اگرچہ آیت ہذا مباہلہ کی نصرانیان نجران کے حق میں وارد ہوئی تھی مگر دیگر اقوام قریش مثل ابو جهل وغیرہ سے بھی آپ کا مباہلہ واقع ہوا۔دیکھو کتب سیر کو۔اسی طرح پر مسیح موعود کا مباہلہ بھی علاوہ طرفداران عیسی کے دیگر اقوام سے بھی حسب درخواست مخالفین کے واقع ہوا ہے جیسا کہ لیکھرام وغیرہ۔اور جنہوں نے خود درخواست کر کر مباہلہ کیا وہ بقدر اپنے اپنے تشدد اور سختی کے لعنت الہی میں مبتلا ہوئے ، خواہ ذلت و رسوائی ہو یا ہلاکت ہو۔جس طرح پر مفسرین نے اس مباہلہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اثبات کیا ہے اسی طرح پر ان مباہلوں سے مسیح موعود کے دعاوی کا اثبات ہوا کیونکہ نتیجہ ان مباہلوں کا حسب دعاوی مسیح موعود کے واقع ہوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔اور اگر کوئی مخالف ان مباہلوں کو بعد وقوع نتائج کے بھی نہ مانے تو وہ بتادے کہ پھر صادق اور کاذب میں کیا مابہ الامتیاز رہے گا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے