خطبات نور — Page 189
189 کر دیتا ہے۔یقینا یاد رکھو فرمانبرداری بڑی دولت ہے۔یہی دولت ابراھیم علیہ السلام کو ملی جس نے اس کو اسقدر معظم و مکرم بنا دیا۔خدا تعالیٰ کے ہر قسم کے فیض اور فیضان اسی فرمانبرداری پر نازل ہوتے ہیں مگر تھوڑے ہیں جو اس راز کو سمجھتے ہیں۔اس وقت خدا تعالیٰ پھر ایک قوم کو معز بنانا چاہتا ہے اور اس پر اپنا فضل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے بھی وہی شرط اور امتحان ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے لئے تھا۔وہ کیا؟ کچی اطاعت اور پوری فرمانبرداری۔اس کو اپنا شعار بناؤ اور خدا تعالیٰ کی رضا کو اپنی رضا پر مقدم کر لو۔دین کو دنیا پر اپنے عمل اور چلن سے مقدم کر کے دکھاؤ۔پھر خدا تعالیٰ کی نفرتیں تمہارے ساتھ ہوں گی۔اس کے فضلوں کے وارث تم بنو گے۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کے محروم ہونے کی ایک یہ بھی وجہ ہوتی ہے کہ وہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ سے کچھ وعدے کرتا ہے لیکن جب ان وعدوں کے ایفاء کا وقت آتا ہے تو ایفاء نہیں کرتا۔ایسا شخص منافق مرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا اخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ (التوبه ۷۷)۔اس سے ہمیشہ بچتے رہو۔انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے۔اس وقت وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا ملجاو مادی تصور کرتا ہے اور فی الحقیقت وہی حقیقی پناہ ہے۔اس وقت وہ اس سے وعدے کرتا ہے۔پس تم پر مشکلات آئیں گی اور آتی ہیں۔تم بہت وعدے خدا تعالٰی سے نہ کرو اور کرو تو ایفاء کرو۔ایسا نہ ہو کہ ایفاء نہ کرنے کا وبال تم پر آئے اور خاتمہ نفاق پر ہو (خدا ہم کو محفوظ رکھے۔آمین) اور ہم کو بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ ہم سب ایک عظیم الشان وعدہ کر چکے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور جہاں تک طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتے رہیں گے۔اس وعدہ کو ایفاء کرنے کی پوری کوشش کرو اور پھر خدا تعالیٰ ہی سے توفیق اور مدد چاہو۔کیونکہ وہ مانگنے والوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کی دعائیں سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔پھر ایک اور عیب بتایا ہے جو منافق میں ہوتا ہے، وہ جھوٹ بولنا ہے۔عام جھوٹ بولنا وہ بھی ہے جو ایک حدیث میں ہے كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا اَنْ تُحَدِّثَ بِكُلِّ مَاسَمِعَ (صحيح مسلم - باب النهي عن۔الحديث بكل ما سمع) یعنی یہ بھی جھوٹ ہی ہے کہ انسان جو کچھ سنے بلا سوچے سمجھے اسے بیان کر دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشاد میں بڑی بڑی برائیوں سے روکنے کا نسخہ بتایا گیا ہے۔خود